ابوظہبی، 16 اکتوبر، 2025 (وام)--ابوظہبی کے محکمہ توانائی اور متحدہ عرب امارات میں قائم مصنوعی ذہانت سے چلنے والی اسپیس ٹیک کمپنی اسپیس42 کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں، جس کا مقصد امارت میں پائیدار توانائی اور پانی کے انتظام کے لیے جیو اسپیشل (جغرافیائی) اور اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
اس معاہدے پر دستخط کی تقریب کی نگرانی چیئرمین محکمہ توانائی ڈاکٹر عبداللہ حمید الجروان نے کی، جبکہ معاہدے پر محکمہ توانائی میں لائسنسنگ، تعمیل اور صارفین کے تحفظ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انجینئر شیماء عبداللہ الملہ اور اسپیس42 میں اسمارٹ سلوشنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے دستخط کیے۔
یہ معاہدہ دونوں اداروں کے درمیان جدید ماهواری تصویروں اور اے آئی ٹیکنالوجیز کے اشتراک، ترقی اور اطلاق کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
تعاون کا مقصد ابوظہبی کے توانائی اور پانی کے انفراسٹرکچر کی مضبوطی، آپریشنل استعداد میں بہتری، اور ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینا ہے۔
معاہدے کے تحت اسپیس42 محکمہ توانائی کو سیٹلائٹ تصاویر بطور مینجڈ سروسز فراہم کرے گا، جن میں اعلیٰ معیار کی آپٹیکل، ریڈار (SAR) اور تھرمل تصاویر شامل ہوں گی، تاکہ انفراسٹرکچر کی نگرانی اور منصوبہ بندی کو بہتر بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ، اے آئی پر مبنی جغرافیائی حل بھی فراہم کیے جائیں گے، جن کی مدد سے مختلف شعبوں میں پیشگی تجزیہ (Predictive Analysis) اور ڈیٹا پر مبنی فیصلے ممکن ہو سکیں گے۔
دیگر تعاون کے شعبوں میں بجلی، پانی، ضلعی کولنگ اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی مانیٹرنگ کے لیے سیٹلائٹ پر مبنی جدید اور مربوط نظام کی تیاری شامل ہے۔ اس کے علاوہ، بارش کے پانی کے ذخیرے اور ممکنہ سیلابی خطرات کی پیشگوئی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی سمیولیشنز (تجرباتی ماڈلز) تیار کیے جائیں گے، جو شہری منصوبہ بندی میں معاون ثابت ہوں گے۔ مزید برآں، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے محکمہ توانائی کی دور دراز تنصیبات اور اثاثوں سے موصول ہونے والے ڈیٹا کا فوری اور مؤثر تجزیہ کیا جائے گا، جس سے فیصلہ سازی اور آپریشنل کارکردگی میں نمایاں بہتری ممکن ہو سکے گی۔
یہ اقدامات زمین میں نمی کی سطح سے متعلق بروقت معلومات فراہم کریں گے، جس سے پانی کے درست اور مؤثر انتظام میں مدد ملے گی۔
دونوں ادارے مشترکہ پائلٹ منصوبوں، مطالعاتی تحقیقی سرگرمیوں اور دیگر جدید اقدامات پر بھی تعاون کریں گے، تاکہ ابوظبی میں توانائی و پانی کے شعبے میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
انجینئر شیماء الملہ نے کہاکہ، "اسپیس42 کے ساتھ یہ شراکت داری ہماری یہ عزم ظاہر کرتی ہے کہ ہم جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ابوظبی کے پائیدار ترقیاتی اہداف کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم AI، سیٹلائٹ تصاویر اور جغرافیائی ڈیٹا کو بروئے کار لا کر وسائل کے مؤثر استعمال اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے اسمارٹ حل وضع کر رہے ہیں۔"
حسن الحوسنی کے مطابق محکمہ توانائی کے ساتھ تعاون ہمیں خلائی ڈیٹا اور اے آئی کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک اسمارٹ اور پائیدار شہری نظام کی تشکیل میں مدد دے گا۔ یہ معاہدہ ابوظہبی کے توانائی اور پانی کے نظام میں صورتحال کی بہتر تفہیم، کارکردگی میں بہتری، اور انفراسٹرکچر میں جدت کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔