اسلام آباد، 18 اکتوبر، 2025 (وام)--وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے بتایا کہ حالیہ تباہ کن سیلابوں سے پاکستان کو تقریباً 2.9 ارب امریکی ڈالر (تقریباً 822 ارب روپے) کا نقصان ہوا ہے، جس سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی ہے۔
یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز وزارت کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ اور ابتدائی سیلابی نقصانات کے تخمینے کے اجرا کے موقع پر کہی۔
احسن اقبال نے بتایا کہ ایک تفصیلی پوسٹ ڈیزاسٹر نیڈز اسیسمنٹ جاری ہے، جس کے ذریعے سیلاب سے ہونے والے حقیقی معاشی نقصانات کا درست اندازہ لگایا جائے گا۔
ابتدائی تخمینے کے مطابق 430 ارب روپے (1.53 ارب ڈالر) کا نقصان زرعی شعبے کو پہنچا ہے، جبکہ 307 ارب روپے (1.1 ارب ڈالر) کا نقصان انفراسٹرکچر کو ہوا۔
سیلابوں کے باعث ملک بھر میں تقریباً 2 لاکھ 29 ہزار مکانات تباہ ہوئے، جب کہ 2,811 کلومیٹر سڑکیں، 790 پل، 129 سرکاری عمارتیں، 2,267 تعلیمی ادارے، 243 صحت مراکز، 1,297 تجارتی علاقے اور 86 واٹر انفراسٹرکچر سائٹس — بشمول آبی ذخائر اور واٹر ورکس — کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق، سیلابی نقصانات کے باعث مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو میں 0.3 سے 0.7 فیصد پوائنٹس تک کمی متوقع ہے، جس سے شرح نمو کا تخمینہ 4.2 فیصد سے کم ہو کر 3.5 سے 3.9 فیصد تک رہ جائے گا۔
مزید بتایا گیا کہ آفت کے نتیجے میں ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد تقریباً 2.2 لاکھ تک بڑھ سکتی ہے۔
احسن اقبال کے مطابق، زرعی پیداوار میں بھی نمایاں کمی کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ، “ہم اندازہ لگاتے ہیں کہ کپاس کی پیداوار میں 30 سے 34 لاکھ بیلز، چاول کی پیداوار میں 10 لاکھ ٹن اور گنے کی پیداوار میں 13 سے 33 لاکھ ٹن تک کمی ہو سکتی ہے،” تاہم ان تخمینوں کا انحصار مختلف علاقوں میں پانی کے قیام کی مدت پر ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ابتدائی تخمینے حکومت کی بحالی اور تعمیرِ نو کی حکمتِ عملی کے لیے رہنمائی فراہم کریں گے۔
ان کے مطابق، حکومت کا فوکس اہم بنیادی ڈھانچے کی بحالی، متاثرہ علاقوں میں روزگار کی فراہمی، اور مستقبل کے موسمیاتی خطرات کے مقابلے کے لیے لچک پیدا کرنے پر ہے۔