متحدہ عرب امارات ماحولیاتی قیادت میں پیش پیش، عالمی گرین اکانومی سمٹ میں ابوظہبی وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار کی شرکت

دبئی، 19 اکتوبر، 2025 (وام)--وزارتِ خارجہ کے اسسٹنٹ وزیر برائے توانائی و پائیداری امور عبداللہ بلعالا نے دبئی میں منعقدہ ورلڈ گرین اکانومی سمٹ (WGES) 2025 میں دو وزارتی سیشنز میں شرکت کی، جہاں انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی اور آبی تحفظ کے شعبوں میں متحدہ عرب امارات کی عالمی قیادت کو اجاگر کیا۔

یہ شرکت متحدہ عرب امارات کی اُن مسلسل کوششوں کا حصہ ہے جو کوپ30 اور 2026 کی اقوام متحدہ واٹر کانفرنس سے قبل عالمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

وزارتی گول میز اجلاس کے دوران، جس کا موضوع تھا "2030 اور اس کے بعد ماحولیاتی اہداف کا حصول"، عبداللہ بلعالا نے کہاکہ، “یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے جب ہمیں وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی رفتار تیز کرنا ہوگی۔ آج کیے گئے فیصلے آنے والی دہائیوں اور نسلوں کے ماحولیاتی نتائج طے کریں گے۔”

بلعالا نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے نومبر 2024 میں اپنی نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشن (NDC) اپ ڈیٹ جمع کرائی، جو گلوبل اسٹاک ٹیک اور کوپ28 میں طے پانے والے 'یو اے ای کنسنسس' سے ہم آہنگ ہے، اور نیٹ زیرو 2050 حکمتِ عملی کے تحت تیار کی گئی ہے۔

انہوں نے کئی نمایاں اماراتی منصوبوں کا حوالہ دیا، جن میں 30 بلین امریکی ڈالر کا "الٹرا فنڈ"، 1 ٹریلین درہم کا پائیدار فنانس انیشیٹو (یو اے ای بینکس فیڈریشن کے تحت)، افریقہ گرین انویسٹمنٹ انیشیٹو — جس کا مقصد 2030 تک 15 گیگا واٹ صاف توانائی پیدا کرنا ہے — اور عالمی سطح پر مصدر جیسے پلیٹ فارمز شامل ہیں جو 40 سے زائد ممالک میں صاف توانائی کے منصوبے چلا رہے ہیں۔

بلعالا نے بتایا کہ امارات الٹرا فنڈ، یو اے ای بینکس فیڈریشن اور گلوبل کلائمیٹ فنانس سینٹر کے ذریعے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو متحرک کر رہا ہے، جس میں گرین صکوک (اسلامی گرین بانڈز) اور بلینڈڈ فنانس جیسے جدید مالیاتی ذرائع شامل ہیں تاکہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی تعاون، شمولیت، اور نوجوانوں، خواتین و کمزور طبقات کی شرکت اماراتی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ ہے۔

ایک علیحدہ سیشن "پائیدار ترقی اور گرین اکانومی میں پانی کا کردار" کے دوران بلعالا نے کہا کہ پانی کا تحفظ عالمی ترجیح ہے، اور امارات جمہوریہ سینیگال کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ واٹر کانفرنس 2026 کی تیاری میں قیادت کا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کے منظور کردہ چھ مکالماتی موضوعات آئندہ کانفرنس کے ایجنڈے کو تشکیل دیں گے اور پانی کے تحفظ کے لیے عالمی اقدامات کو تیز کریں گے۔

بلعالا کے مطابق پانی پائیدار ترقی کے تمام پہلوؤں کو جوڑتا ہے۔ شراکت داری، سرمایہ کاری اور اختراع کے ذریعے پانی سے متعلق پیش رفت کو تیز کرنا نہ صرف ایس ڈی جی 6 (صاف پانی اور صفائی) کے حصول کے لیے اہم ہے بلکہ یہ معاشروں اور معیشتوں کے لیے نئی راہیں بھی کھولے گا۔"

انہوں نے اختتام پر کہا کہ صرف اجتماعی اختراع، سرمایہ کاری اور جامع شراکت داری کے ذریعے ہی دنیا ایس ڈی جی 13 (ماحولیاتی عمل) اور ایس ڈی جی 6 (صاف پانی) کے اہداف حاصل کر سکتی ہے، تاکہ ہر انسان کے لیے خوشحالی اور استحکام یقینی بنایا جا سکے۔