متحدہ عرب امارات میں اغوا، بلیک میلنگ اور بے حیائی کے سنگین مقدمے میں منظم گروہ عدالت کے حوالے

ابوظہبی، 20 اکتوبر، 2025 (وام)--وفاقی استغاثہ نے نو عرب شہریوں کو عدالت میں پیش کیا ہے جن پر منظم جرائم پیشہ گروہ بنانے، اغوا، بلیک میلنگ، اور بے حیائی کے سنگین الزامات عائد ہیں۔ یہ جرائم ریاستی سلامتی، عوامی نظم اور سماجی امن کے لیے خطرہ قرار دیے گئے ہیں۔

یہ مقدمہ اس وقت شروع ہوا جب ایک متاثرہ شخص نے وفاقی استغاثہ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم "مای سیف سوسائٹی" کے ذریعے شکایت درج کرائی۔
متاثرہ نے بتایا کہ اسے اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، نازیبا انداز میں ویڈیو بنائی گئی جبکہ اس کے ہاتھ باندھے گئے تھے۔

اٹارنی جنرل کی ہدایت پر استغاثہ نے فوری طور پر تفتیش شروع کی، شواہد اکٹھے کیے، اور وفاقی عدالتی نفاذی دفتر کو حکم دیا کہ وہ ملزمان کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے فوری کارروائی کرے۔
مزید برآں، ان تمام آلات اور اشیاء کو بھی ضبط کر لیا گیا جو جرم میں استعمال ہوئیں۔

تحقیقات کے مطابق، ملزمان نے متاثرہ کو ایک مالی تنازع کے بہانے اپنے فلیٹ پر بلایا، جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ہاتھ باندھ کر ایک ہفتے تک قید رکھا گیا، اور زبردستی قرض کے کاغذات پر دستخط کروائے گئے۔
ملزمان نے متاثرہ کی نازیبا ویڈیو بنائی اور بعد میں اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر شیئر کر کے اس کے اہلِ خانہ سے رقم بٹورنے کی کوشش کی۔

تحقیقات کے دوران گاڑی اور موبائل فون برآمد ہوئے جن میں ملزمان کی بلیک میلنگ اور تشدد کی ویڈیوز موجود تھیں، جو ان کی منظم اور خطرناک سرگرمیوں کا ثبوت ہیں۔
ملزمان پر ایسے جرائم کے الزامات ہیں جن کی سزا سزائے موت یا عمر قید تک ہو سکتی ہے، کیونکہ ان کے اقدامات ریاستی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشامسی نے کہا کہ ملک کی سلامتی اور استحکام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ استغاثہ قانون پر مکمل غیر جانب داری سے عمل کر رہا ہے، تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کیا جا سکے اور ایسے تمام مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے جو قومی سلامتی یا سماجی امن کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔