امارات کی گرین شپنگ کے فروغ کے لیے شنگھائی میں نارتھ بند فورم 2025 میں شرکت

شنگھائی، 20 اکتوبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات نے، وزارتِ توانائی و بنیادی ڈھانچہ (MoEI) کی نمائندگی میں، چین کے شہر شنگھائی میں منعقد ہونے والے پانچویں نارتھ بند فورم میں شرکت کی۔ یہ فورم عالمی سطح پر گرین شپنگ کے فروغ اور بین الاقوامی تعاون کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔

فورم میں دنیا کے مختلف ممالک کے میرین وزرا، ماہرین اور صنعت کے رہنما شریک ہوئے۔
امارات کی جانب سے وزارتِ توانائی و بنیادی ڈھانچے میں مشیر برائے سمندری امور حصہ المالک نے یو اے ای کا سرکاری خطاب پیش کیا۔

اپنے خطاب میں حصہ المالک نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان تعلقات گہرے اسٹریٹجک تعاون پر مبنی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل تجارت کا حجم 90 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا، جبکہ دونوں ممالک کا ہدف ہے کہ 2030 تک اسے 200 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امارات عرب دنیا میں چینی کاروباروں کے لیے سب سے بڑا مرکز ہے، جہاں 16,500 سے زائد کاروباری لائسنس چینی شہریوں کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔
امارات غیر تیل تجارت میں چین کا سب سے بڑا عرب پارٹنر ہے، اور یو اے ای کی بندرگاہوں کے ذریعے چینی اشیا 400 سے زائد شہروں کو برآمد کی جاتی ہیں، جس سے دبئی اور ابوظہبی خطے میں چین کے لیے اسٹریٹجک تجارتی گیٹ وے کی حیثیت رکھتے ہیں۔

حصہ المالک نے کہا کہ، “ہم سمجھتے ہیں کہ جہاز رانی کے شعبے میں ماحولیاتی پائیداری کی طرف منتقلی ناگزیر ہے، تاہم ہمارا ماننا ہے کہ کسی بھی بنیادی تبدیلی سے پہلے عملی اور قابلِ عمل اقدامات، ترغیبات اور سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ صنعت اس تبدیلی کو مؤثر انداز میں اپنا سکے۔”

انہوں نے بتایا کہ چند ہفتے قبل امارات نے ورلڈ میری ٹائم ڈے پیرالل ایونٹ 2025 کی میزبانی کی، جس کا عنوان
“ہمارا سمندر – ہماری ذمہ داری – ہمارا موقع” تھا۔
یہ ایونٹ عالمی سطح کے میرین رہنماؤں اور ماہرین کو یکجا کرتا ہے تاکہ ماحولیاتی چیلنجز، ڈی کاربنائزیشن، سمندری آلودگی اور میرین بائیو ڈائیورسٹی کے تحفظ جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ “ہمیں فخر ہے کہ یہ ایونٹ شاندار کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اس نے اسی تعاون کی روح کو اجاگر کیا جس کی ہم توقع کرتے ہیں۔ اس کے نتائج نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر گرین شپنگ اور سمندری تحفظ پر مثبت اثر ڈالیں گے۔”

اپنے خطاب کے اختتام پر حصہ المالک نے کہا کہ مستقبل ان ممالک کا ہوگا جو مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے مل کر کام کریں گے۔
انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ گرین شپنگ کے فروغ کے لیے متحدہ اقدامات کیے جائیں تاکہ عالمی معیشت، سمندری پائیداری اور اقتصادی خوشحالی کو تقویت مل سکے۔