نیویارک، 21 اکتوبر، 2025 (وام)--اقوام متحدہ نے غزہ میں جنگ بندی کے نئے عزم کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حالیہ پرتشدد واقعات نازک نوعیت کی امن کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ جنگ سے تباہ حال علاقے میں ملبہ ہٹانے اور بحالی کے منصوبے بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے نیویارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہاکہ، “ہم اس بات سے حوصلہ پاتے ہیں کہ فریقین نے غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے اپنے عزم کی تجدید کی ہے اور ہم ثالثوں کی مستقل کوششوں کو سراہتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ تمام فریقوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کریں اور ایسے کسی اقدام سے گریز کریں جو دوبارہ جھڑپوں کا باعث بنے۔
دوجارک نے سیکرٹری جنرل کی اس اپیل کو بھی دہرایا کہ تمام ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشیں واپس کی جائیں۔
ترجمان کے مطابق، اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے ہفتے کے اختتام پر کیرم شالوم (کریم ابو سالم) اور کِسوفیم گزرگاہوں سے امدادی سامان جمع کیا، جس میں زچگی کے بعد استعمال ہونے والے طبی کٹس، صفائی کا سامان، ایندھن، پانی اور خوراک شامل تھی۔
انہوں نے بتایا کہ اتوار کے روز پہلی مرتبہ اسرائیلی حکام نے اقوام متحدہ کے مبصرین کو کِسوفیم کراسنگ پر تعینات کرنے کی اجازت دی، جو ایک مثبت پیش رفت ہے کیونکہ اس سے امدادی عمل کے اس حصے پر بہتر نگرانی ممکن ہو گی۔
غزہ شہر میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) نے ایک بڑے پیمانے پر ملبہ ہٹانے کے منصوبے کا آغاز کر دیا ہے، جو ملبہ صاف کرنے کے جامع پروگرام کا پہلا مرحلہ ہے۔ اس منصوبے کا مقصد اسپتالوں، اسکولوں اور دیگر ضروری سہولیات تک رسائی بحال کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے نمائندے یاکو سیلیئرز نے بتایا کہ، “غزہ میں ملبہ ایک بڑا چیلنج ہے، جہاں اس کی مقدار کا اندازہ پچپن سے ساٹھ ملین ٹن کے درمیان لگایا گیا ہے۔”