کیپ ٹاؤن، 21 اکتوبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات نے وزارتِ توانائی و بنیادی ڈھانچہ (MoEI) کی نمائندگی میں جی20 انرجی ٹرانزیشنز وزارتی اجلاس میں شرکت کی، جو جنوبی افریقہ میں منعقد ہوا۔
یو اے ای کے وفد کی قیادت انجینئر شریف العلماء، انڈر سیکریٹری برائے توانائی و پٹرولیم امور، نے کی۔
انجینئر شریف العلماء نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ متحدہ عرب امارات جی20 کی صدارت کی ترجیحات کی مکمل حمایت کرتا ہے، جو ایک محفوظ، جامع اور پائیدار توانائی کے مستقبل کے قیام پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یو اے ای عالمی توانائی سلامتی کو فروغ دینے اور صاف توانائی کے ذرائع کی جانب منتقلی کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہاکہ،“توانائی کی سلامتی عالمی استحکام اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔ یو اے ای میں ہم اسے صرف تنوع نہیں بلکہ لچک کی علامت سمجھتے ہیں، جو اختراع، مربوط منصوبہ بندی اور شمولیت پر مبنی ہے۔”
انجینئر العلماء نے وضاحت کی کہ اسمارٹ گرڈز، الیکٹرِیفکیشن اور ڈی سینٹرلائزڈ سسٹمز میں سرمایہ کاری کے ذریعے یو اے ای نے پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 7 (SDG7) کے تحت 100 فیصد بجلی تک رسائی حاصل کی ہے، اور صاف ایندھن سے کھانا پکانے کے لحاظ سے بھی عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برکہ نیوکلیئر انرجی پلانٹ، جو اب ملک کی 25 فیصد بجلی فراہم کر رہا ہے، اس بات کی مثال ہے کہ پُرامن جوہری ٹیکنالوجی توانائی کی سلامتی اور کاربن اخراج میں کمی کے لیے کتنی اہم ہے۔
انہوں نے پانی اور توانائی کے باہمی تعلق (Water-Energy Nexus) کو ماحولیاتی لچک کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ، “محمد بن زاید واٹر انیشی ایٹو اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ مختلف شعبوں میں اختراع ہی مستقبل کے پانی اور توانائی کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ اسی جذبے کے تحت میں تمام شراکت داروں کو 2026 میں یو اے ای اور سینیگال کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والی اقوام متحدہ واٹر کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔”
انجینئر العلماء نے کہا کہ یو اے ای پائیدار صنعتی مراکز کے لیے جی20 کے رضاکارانہ اصولوں کا خیرمقدم کرتا ہے اور ہائیڈروجن اور اس کی ذیلی مصنوعات پر صدارت کے فوکس کو سراہتا ہے، جو کم کاربن ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ، “ہماری نیشنل ہائیڈروجن اسٹریٹیجی 2050 کا مقصد یو اے ای کو کم اخراج والے ہائیڈروجن اور امونیا کا نمایاں عالمی پیدا کنندہ اور برآمد کنندہ بنانا ہے، جو اختراع، مضبوط مالیاتی ڈھانچے اور مستحکم سپلائی چین پر مبنی ہے۔ لیکن توانائی کی منتقلی صرف صاف نہیں بلکہ مؤثر بھی ہونی چاہیے۔ اسی لیے ہم نے گلوبل انرجی ایفیشنسی الائنس (GEEA) قائم کی، جو عملی اقدامات کے ذریعے وعدوں کو حقیقی پیش رفت میں بدلنے پر مرکوز ہے۔”
GEEA کے ذریعے یو اے ای کا ہدف ہے کہ 2030 تک کم از کم 15 ممالک کی معاونت کی جائے، 75 ملین امریکی ڈالر کی فنڈنگ متحرک کی جائے، اور توانائی کی کارکردگی میں واضح کمی حاصل کی جائے، کیونکہ توانائی کی بچت ہی سب سے مؤثر اور کم لاگت طریقہ ہے جو ترقی، اخراج میں کمی اور رسائی کو تیز کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ، “یو اے ای جی20 کی افریقی توانائی رابطے کے وژن کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ علاقائی تعاون صرف ایک خواہش نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔ ہم جی سی سی انرجی انٹرکنکشن تجربے اور انڈیا-مشرق وسطیٰ-یورپ اکنامک کاریڈور (IMEC) جیسے عالمی منصوبوں سے حاصل تجربات کے ذریعے افریقہ میں صاف توانائی کے نیٹ ورکس کی تعمیر میں سرمایہ کاری، تکنیکی مہارت اور اختراعی مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔”