اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانی ہوگی، عالمی عدالتِ انصاف

نیویارک، 23 اکتوبر، 2025 (وام)--عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) نے کہا ہے کہ اسرائیل، بطور "قابض طاقت"، اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امدادی سامان کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنائے، جبکہ اقوامِ متحدہ اور دیگر انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے کام میں رکاوٹ نہ ڈالے۔

عدالت نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی درخواست پر جاری کیے گئے ایک تفصیلی مشاورتی فیصلے میں قرار دیا کہ اسرائیل پر لازم ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے عوام کو روزمرہ ضروریاتِ زندگی جیسے خوراک، پانی، کپڑے، بستر، رہائش، ایندھن، اور طبی سہولیات و ادویات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

عالمی عدالت نے مزید زور دیا کہ اسرائیل تمام امدادی کارکنوں، طبی عملے اور طبی مراکز کا احترام اور تحفظ یقینی بنائے۔

عدالت کے ججوں نے دس کے مقابلے میں ایک ووٹ سے فیصلہ دیا کہ اسرائیل پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے ساتھ نیک نیتی سے تعاون کرے اور تنظیم کے منشور کے مطابق کی جانے والی ہر کارروائی میں مکمل مدد فراہم کرے، جس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے قائم ادارہ یو این آر ڈبلیو اے (UNRWA) بھی شامل ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے عالمی عدالت کے اس فیصلے کو انتہائی اہم قرار دیا اور کہا کہ یہ رائے ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوامِ متحدہ جنگ بندی کے بعد غزہ میں امداد کی فراہمی میں تیزی لا رہی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اسرائیل پر بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی حقوق کے قوانین کے تحت یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مقبوضہ علاقوں میں عام شہریوں کا تحفظ کرے، امدادی کارکنوں اور طبی سہولیات کی سلامتی یقینی بنائے اور کسی بھی شہری کو جبری طور پر منتقل کرنے یا خوراک سے محروم کرنے سے گریز کرے۔