العین، 23 اکتوبر، 2025 (وام)--العین ریجن میں حکمران کے نمائندے عزت مآب شیخ ہزاع بن زاید النہیان نے العین میوزیم کی ازسرِ نو تزئین و توسیع کے بعد ہونے والی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ یہ منصوبہ میوزیم کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے جدید سہولیات، نمائش ہالز اور انٹرایکٹو ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لیے مکمل طور پر ازسرِنو تیار کیا گیا ہے، تاکہ عالمی معیار کے مطابق اسے ایک جدید ثقافتی مرکز بنایا جا سکے۔
تقریب میں متعدد معزز شخصیات شریک ہوئیں، جن میں شیخ سرور بن محمد آل نھیان، چیئرمین ابوظہبی اسپورٹس کونسل شیخ نہیان بن زاید النہیان، صدرِ مملکت کے مشیر شیخ ڈاکٹر سلطان بن خلیفہ النہیان، چیئرپرسن دبئی کلچر اینڈ آرٹس اتھارٹی شیخہ لطیفہ بنت محمد بن راشد المکتوم، اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) شیخ سعید بن حمدان بن محمد النہیان، چیئرمین نیشنل اینٹی نارکوٹکس اتھارٹی شیخ زاید بن حمد بن حمدان النہیان، شیخ محمد بن حمدان بن زاید النہیان، اور چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف کلچر اینڈ ٹورازم – ابوظہبی محمد خلیفہ المبارک شامل تھے۔
شیخ ہزاع بن زاید النہیان نے میوزیم کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور قدیم نوادرات و نمائشوں کو دیکھا، جو خطے کی روایات، زراعت، ماہی گیری اور دستکاری کی عکاسی کرتی ہیں۔ آرکیالوجی اور ایتھنوگرافی سیکشنز میں ایسے آثارِ قدیمہ بھی شامل ہیں جو ہزاروں سال پرانی انسانی تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں مٹی کے برتن، لوہے کے تیر کے نوکدار سرے اور خنجر شامل ہیں، جو جبل حفیت کے مقبروں اور القطارہ اویسس جیسے تاریخی مقامات سے دریافت کیے گئے۔
افتتاح کے موقع پر انہیں میوزیم کی مرمتی و ترقیاتی مراحل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ منصوبے کے تحت میوزیم کا کل رقبہ 1,200 مربع میٹر سے بڑھا کر 8,000 مربع میٹر کر دیا گیا ہے، جس میں 10 بڑے نمائش ہالز شامل ہیں جو جدید آڈیو ویژول اور انٹرایکٹو سسٹمز سے لیس ہیں۔ اس کے علاوہ تحقیقی و تعلیمی مراکز، لیبارٹریاں، مطالعہ گاہ، کیفے، ریٹیل ایریا اور عارضی نمائشوں کے لیے خصوصی ہال بھی شامل کیے گئے ہیں۔
شیخ ہزاع بن زاید النہیان نے کہا کہ العین میوزیم متحدہ عرب امارات کے اہم ترین ثقافتی و تاریخی ورثوں میں سے ایک ہے اور یہ ملک کا پہلا قائم شدہ میوزیم ہونے کے ناطے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ازسرِنو بحالی اور افتتاح صدرِ مملکت عالی مرتبت شیخ محمد بن زاید النہیان کے وژن کا عملی اظہار ہے، جو مرحوم بانیِ قوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کے اس عزم کو آگے بڑھا رہا ہے کہ قومی ورثے اور ثقافتی شناخت کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھا جائے۔
انہوں نے ثقافتی و ورثہ جاتی اداروں کی کاوشوں کو سراہا جو ملکی تاریخی مقامات کے تحفظ اور اماراتی تمدن کے تسلسل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی ورثے کی دستاویز بندی اور حفاظت ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتی ہے، جو نوجوان نسل میں تاریخی شعور، قومی شناخت اور فخر کو مزید تقویت دیتی ہے۔