ڈاکٹر عبداللہ المندوس کی زیر صدارت جنیوا میں عالمی موسمیاتی تنظیم کا خصوصی اجلاس، 'ایرلی وارننگ فار آل' کے نفاذ پر زور

جنیوا، 23 اکتوبر، 2025 (وام)--ورلڈ میٹیورولوجیکل آرگنائزیشن کے صدر اور متحدہ عرب امارات کے نیشنل سینٹر آف میٹیورولوجی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبداللہ احمد المندوس کی صدارت میں عالمی موسمیاتی کانگریس کا خصوصی اجلاس جنیوا میں تنظیم کے صدر دفتر میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش، ورلڈ میٹیورولوجیکل آرگنائزیشن کے علاقائی صدور اور اقوامِ متحدہ کے سینئر عہدیداران نے شرکت کی۔

یہ اعلیٰ سطحی اجلاس ‘ایرلی وارننگ فار آل’ (EW4ALL) منصوبے کے تیز رفتار نفاذ اور اقوامِ متحدہ کے نظام میں اسٹریٹجک ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر مرکوز تھا، تاکہ 2027 تک دنیا کا ہر فرد جان بچانے والے ابتدائی انتباہی نظام سے مستفید ہو سکے۔

اپنے افتتاحی خطاب میں ڈاکٹر المندوس نے کہا کہ یہ اجلاس عالمی سطح پر ابتدائی انتباہی نظام کو فروغ دینے کے ایجنڈے میں ایک تاریخی سنگ میل ہے، جسے سب سے پہلے انتونیو گوتریش نے عالمی ترجیح کے طور پر پیش کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کی اس اپیل نے ‘ایرلی وارننگ’ کے تصور کو بین الاقوامی ایجنڈے میں اولین مقام پر پہنچا دیا ہے اور دنیا بھر کے ممالک میں اجتماعی ذمہ داری اور فوری عمل کا جذبہ پیدا کیا ہے۔

ڈاکٹر المندوس نے یقین دہانی کرائی کہ ورلڈ میٹیورولوجیکل آرگنائزیشن اور اس کے رکن ممالک اس وژن کے مکمل حامی اور اس پر عمل کے لیے پُرعزم ہیں، کیونکہ ‘ایرلی وارننگ فار آل’ (EW4ALL) منصوبہ موسمیاتی لچک (climate resilience)، امن و ترقی اور عالمی تحفظ کا بنیادی ستون ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کے نظام میں اب غیر رسمی تعاون کے بجائے اسٹریٹجک ہم آہنگی کو فروغ دینے کا وقت ہے، تاکہ اس وژن پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ممکن ہو۔ انہوں نے تجویز دی کہ ورلڈ میٹیورولوجیکل آرگنائزیشن کو اقوامِ متحدہ کے اکنامک اینڈ سوشل کونسل کے ساتھ مزید مؤثر ادارہ جاتی تعلقات قائم کرنے چاہئیں، تاکہ موسم، آب و ہوا اور پانی سے متعلق سرگرمیوں کو پائیدار ترقی کے وسیع اہداف کے ساتھ جوڑا جا سکے۔

ڈاکٹر المندوس نے مزید کہا کہ تنظیم کو انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن، انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین اور انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن جیسے خصوصی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ اور پالیسی ہم آہنگی بڑھانی چاہیے، تاکہ مشترکہ ترجیحات پر متحد عالمی عمل یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ، “ایرلی وارننگ سسٹمز میں لگایا گیا ہر ایک ڈالر نو گنا فائدہ دیتا ہے اور بے شمار جانیں بچاتا ہے، اس لیے یہ نہ صرف ایک اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ ایک اقتصادی ضرورت بھی ہے۔”

ڈاکٹر المندوس نے ورلڈ میٹیورولوجیکل آرگنائزیشن کے وژن"ایک سیارہ، ایک نظام، ایک برادری"کو دہراتے ہوئے کہا کہ تنظیم اپنے ارکان کے ساتھ مل کر اقوامِ متحدہ کے نظام میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنائے گی، تاکہ درست، بروقت موسمی، آبی اور ماحولیاتی معلومات دنیا کی ہر برادری تک پہنچ سکیں۔

اجلاس کے بعد انتونیو گوتریش نے اپنے کلیدی خطاب میں ورلڈ میٹیورولوجیکل آرگنائزیشن کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم ‘خاموش لیکن مؤثر قوت’ ہے جو دنیا کے تمام سائنسی و موسمیاتی فیصلوں کو ممکن بناتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر موسمیاتی خدمات کی سائنسی درستگی اور طویل مدتی نگرانی نہ ہو تو دنیا ان انتباہات، رہنمائی اور تحفظ سے محروم رہ جاتی جو ہر سال لاکھوں جانیں بچاتے اور اربوں ڈالر کے نقصانات سے بچاتے ہیں۔

گوتریش نے زور دیا کہ ماحولیاتی بحران انسانیت کے وجود کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر فوری اور متحدہ عمل ناگزیر ہے۔