متحدہ عرب امارات کا اسرائیلی قانون سازی پر شدید احتجاج

ابوظہبی، 23 اکتوبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی کنیسٹ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی خودمختاری نافذ کرنے اور ایک غیر قانونی بستی پر کنٹرول کو قانونی حیثیت دینے سے متعلق دو بلوں کی ابتدائی منظوری کی سخت مذمت کی ہے۔

امارات نے واضح کیا کہ یہ اقدام ایک خطرناک اشتعال انگیزی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں انصاف اور جامع امن کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں اس بات کا اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات ہر اس یکطرفہ اقدام کو مسترد کرتا ہے جس کا مقصد مقبوضہ فلسطینی سرزمین کی قانونی یا تاریخی حیثیت میں تبدیلی لانا ہو۔ وزارت نے خبردار کیا کہ مغربی کنارے کو ضم کرنے کی کسی بھی کوشش کو قطعی طور پر مسترد کیا جائے گا، کیونکہ یہ دو ریاستی حل کی بنیادوں کو کمزور کرتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امارات علاقائی اور عالمی سطح پر امن عمل کی بحالی اور غیر قانونی اقدامات کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ وزارت نے یقین دلایا کہ متحدہ عرب امارات امن، انصاف اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

وزارتِ خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی و سیاسی ذمہ داریاں پوری کرے اور تمام اقوام کے لیے امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔