عالمی بینک نے انسانی ترقی میں متحدہ عرب امارات کو مثالی ملک قرار دیا، خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی پالیسیوں کی تعریف

دبئی، 27 اکتوبر، 2025 (وام)--عالمی بینک نے متحدہ عرب امارات کو انسانی ترقی، خواتین کے بااختیار بنانے، اور نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے ایک عالمی نمونہ قرار دیا ہے۔

عالمی بینک کی مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے لیے ریجنل ڈائریکٹر برائے ہیومن ڈویلپمنٹ فادیہ سعدہ نے کہا کہ یو اے ای نے کام اور ذاتی زندگی میں توازن، خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت، اور ابتدائی تعلیم میں سرمایہ کاری کے ذریعے ایک مربوط اور کامیاب ماڈل قائم کیا ہے۔

انہوں نے عالمی بینک کی نئی رپورٹ “تبدیلی کو اپنانا اور تشکیل دینا: منتقلی میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے خطے کے لیے انسانی ترقی” کے اجرا کے بعد وام سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یو اے ای کے 2022 کے لیبر لا اصلاحات نے پارٹ ٹائم، عارضی، ریموٹ، اور مشترکہ ملازمتوں کے مواقع بڑھا کر خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھولے ہیں۔

فادیہ سعدہ کے مطابق، 2021 میں متعارف کرائی گئی والدین کی چھٹی کی پالیسیوں نے خواتین کو کام اور گھریلو زندگی میں بہتر توازن قائم کرنے کا موقع دیا۔
انہوں نے کہاکہ،“یو اے ای کی ابتدائی بچپن کی تعلیم اور کم لاگت والے ڈے کیئر مراکز میں سرمایہ کاری نے خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو ضروری ہنر فراہم کیے ہیں۔”

عالمی بینک کی نمائندہ نے یو اے ای کے جدید لیبر مووبلٹی ماڈل کی بھی تعریف کی، جس کے تحت ماہرانہ ویزا آپشنز جیسے گولڈن ویزا، گرین ویزا، جاب سرچ ویزا اور ریموٹ ورک ویزا فراہم کیے گئے ہیں، جو سرمایہ کاروں، فری لانسرز اور ہنرمند پیشہ ور افراد کے لیے بے مثال سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یو اے ای نے بے روزگاری انشورنس، اجرت کے تحفظ، اور بھرتی کے شفاف قوانین کے ذریعے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔
ان کے مطابق، اگر دیگر مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ (مینا) ممالک اسی نوعیت کی پالیسیوں کو اپنائیں تو خطے میں قابلِ عمل اقتصادی تنوع، اختراع، اور ہنرمند افرادی قوت کی دستیابی ممکن ہو سکے گی۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک میں انسانی سرمایہ میں نمایاں بہتری آئی ہے، تاہم جامع اور پائیدار ترقی کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں۔
رپورٹ میں تین بڑی تبدیلیوں، آبادی کا بڑھتا عمر کا تناسب، موسمیاتی تبدیلی، اور ٹیکنالوجیکل ارتقاء کو خطے کے مستقبل کی سمت متعین کرنے والے عوامل قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جی سی سی ممالک کو ڈیجیٹلائزیشن اور عمر رسیدہ آبادی کے چیلنجز پر توجہ دینی چاہیے،
جبکہ درمیانی آمدنی والے ممالک کو مالی نظم و ضبط اور کم آمدنی والے ممالک کو انسانی سرمایہ اور ادارہ جاتی استحکام کے تحفظ پر زور دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر خطے کے ممالک اپنی پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار رکھیں تو مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا خطہ چیلنجز کو ترقی کے مواقع میں بدل کر پائیدار اور جامع ترقی کی نئی منزلیں حاصل کر سکتا ہے،
جو خطے کے عوام کے لیے ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہوگی۔