بحرِ کریبیئن میں سمندری طوفان ’’میلیسا‘‘ سے 16 لاکھ بچوں کو خطرہ، یونیسف کا انتباہ

پاناما، 28 اکتوبر، 2025 (وام) --یونیسف کے مطابق سمندری طوفان ’’میلیسا‘‘ کے باعث بحرِ کریبیئن کے کئی ممالک میں شدید موسمی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس سے کم از کم 16 لاکھ بچوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔

یونیسف کا کہنا ہے کہ طوفان کے ساتھ آنے والی تیز ہوائیں، موسلا دھار بارشیں اور اچانک سیلاب جمیکا، ہیٹی، کیوبا اور ڈومینیکن ریپبلک جیسے ممالک میں زندگی کو متاثر کر رہی ہیں، جہاں اگلے کئی دنوں تک خراب موسم جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس دوران بنیادی سہولیات، خاص طور پر ساحلی علاقوں میں، متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

طوفان ’’میلیسا‘‘ فی الحال کیٹیگری 4 میں ہے اور بحرِ کریبیئن میں انتہائی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ جلد ہی کیٹیگری 5 کی شدت اختیار کر سکتا ہے، جس میں ہواؤں کی رفتار 252 کلومیٹر فی گھنٹہ (157 میل فی گھنٹہ) تک پہنچ سکتی ہے۔

یونیسف کے ریجنل ڈائریکٹر برائے لاطینی امریکہ و کریبیئن، روبرتو بینس نے کہاکہ،’’طوفان سے نمٹنے کی تیاری کے تمام اقدامات نہایت اہم ہیں تاکہ سب سے زیادہ متاثرہ اور کمزور برادریوں میں جانی و مالی نقصان کو کم کیا جا سکے۔ چھوٹے جزائر ہمیشہ موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کے زیادہ خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہاکہ، ’’یونیسف ممالک کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ وہ موسمیاتی آفات کی پیش گوئی اور ان سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہوں اور بچوں کے لیے ضروری خدمات فراہم کر سکیں۔ یہ اُن کی حفاظت کے لیے نہایت ضروری ہے جو سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔‘‘

یونیسف، قومی حکام اور شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر ہنگامی تیاریوں میں مصروف ہے، جن میں ضروری امدادی سامان جیسے حفظانِ صحت کے لوازمات، پانی صاف کرنے کے آلات، کنٹینرز اور طبی سامان کی پیشگی فراہمی شامل ہے۔ ادارہ مقامی برادریوں کو پیشگی انتباہی پیغامات پہنچا رہا ہے اور ہیٹی کے جنوبی علاقوں میں متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کر رہا ہے تاکہ طوفان کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دہائی میں لاطینی امریکہ اور کریبیئن کے خطے میں قدرتی اور انسانی عوامل سے پیدا ہونے والی آفات سے ہر سال تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ افراد براہِ راست متاثر ہوئے، جن میں سے 40 لاکھ سے زائد بچے شامل تھے۔