پیرس، 29 اکتوبر، 2025 (وام)-- ایک نئی فرانسیسی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ پودوں پر مبنی غذا کے دل کی صحت پر مثبت اثرات کا اصل راز خوراک کے معیار اور پروسیسنگ کی سطح میں چھپا ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر خوراک زیادہ قدرتی اور غذائیت سے بھرپور ہو تو دل کے امراض کا خطرہ 40 فیصد تک کم ہو جاتا ہے، جب کہ زیادہ ’’الٹرا پروسیسڈ‘‘ (انتہائی صنعتی) پودوں پر مبنی غذائیں فائدے کے بجائے خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔
یہ تحقیق فرانس کے نیشنل ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار ایگریکلچر، فوڈ اینڈ انوائرمنٹ (INRAE)، انسیرم (Inserm)، یونیورسٹی سوربون پیرس نورد اور کنام (Cnam) کے محققین نے مشترکہ طور پر کی، جس کے نتائج جریدے لینسیٹ ریجنل ہیلتھ - یورپ میں شائع ہوئے۔
تحقیق میں 63,835 بالغ افراد کے غذائی معمولات کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ وہ افراد جو باقاعدگی سے تازہ یا ہلکی پروسیسڈ پھل، سبزیاں، دالیں اور مکمل اناج استعمال کرتے ہیں، ان میں دل کی بیماریوں کا امکان ان افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے جو اپنی غذا میں زیادہ تر صنعتی طور پر تیار شدہ اشیاء جیسے پیک شدہ سوپ، پراسیسڈ ڈبل روٹی یا تیار کھانے پر انحصار کرتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق تمام پودوں پر مبنی خوراک ایک جیسی نہیں ہوتی — غذائی معیار اور پروسیسنگ کی سطح دونوں عوامل دل کی صحت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس لیے صرف ’’ویگن‘‘ یا ’’پلانٹ بیسڈ‘‘ ہونے کے بجائے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ خوراک کتنی قدرتی اور غذائیت سے بھرپور ہے۔
ماہرین نے تجویز دی کہ دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ایسی پالیسیوں کو فروغ دیا جائے جو قدرتی، کم پروسیسڈ اور غذائیت سے بھرپور پودوں پر مبنی غذاؤں کو ترجیح دیں — مثلاً تازہ، منجمد یا اعلیٰ معیار کے ڈبہ بند پھل اور سبزیاں جن میں چکنائی، نمک، شکر یا کیمیکل ایڈیٹیوز شامل نہ ہوں۔
یہ تحقیق اس بات کی مزید تصدیق کرتی ہے کہ دل کی صحت کے لیے غذائیت کا معیار اور خوراک کی قدرتی حالت صرف پودوں پر انحصار سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔