یو اے ای اور سربیا کی حکومتوں کا بیلغراد میں پہلا اسمارٹ گورنمنٹ سروس سینٹر قائم

دبئی، 31 اکتوبر 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات اور سربیا کی حکومتوں نے سربیا کے دارالحکومت بیلغراد میں پہلا اسمارٹ گورنمنٹ سروس سینٹر کا افتتاح کیا ہے۔ یہ مرکز حکومتی خدمات کی جدت، تجربات کے تبادلے اور ادارہ جاتی ترقی میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا حصہ ہے۔

یہ سروس سینٹر متحدہ عرب امارات کے جدید ماڈل سے متاثر ہو کر قائم کیا گیا ہے اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے سربیا کے مختلف سرکاری اداروں کو باہم منسلک کرتا ہے۔ مرکز میں 13 سے زائد اہم حکومتی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جہاں روزانہ ایک ہزار سے زائد افراد مستفید ہو رہے ہیں۔

بیلغراد کے مشہور "گالیریا بیلغراد" کمپلیکس میں واقع یہ مرکز تجارتی اور رہائشی سہولتوں پر مشتمل جدید شہری منصوبے کا حصہ ہے۔ سینٹر کو عوامی ضروریات اور جدید تقاضوں کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ زندگی کے معیار اور صارفین کے تجربے میں بہتری لائی جا سکے۔

افتتاحی تقریب میں یو اے ای کی حکومتی وفد نے شرکت کی، جس میں نائب وزیر برائے کابینہ امور (مسابقت اور تجربات کا تبادلہ) عبداللہ ناصر لُوطہ، چیف آف گورنمنٹ سروسز انجینئر محمد بن تلیعہ، متحدہ عرب امارات کے سفیر برائے سربیا احمد حاتم برغش المنہالی، وزارتِ کابینہ امور میں مرکزی خدمات کے شعبے کی سربراہ فوزیہ الطائر المری شامل ہیں۔

سربیا کی قومی اسمبلی کی صدر آنا برنابچ نے تقریب میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سینٹر یو اے ای کے تعاون سے تیار کیا گیا پہلا اپنی نوعیت کا ماڈل ہے، جو ریاست اور عوام کے درمیان تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہے۔ انہوں نے یو اے ای کے ساتھ شراکت کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت مستقبل میں ملک بھر میں ایسے مزید مراکز قائم کرے گی۔

افتتاح کے موقع پر سربیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر جورو ماچُت نے یو اے ای وفد سے ملاقات کی۔ دونوں حکومتوں کے درمیان انتظامی امور، ای گورنمنٹ، اور ڈیجیٹل تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوئی۔
مزید ملاقاتیں سربیا کی وزیر برائے پبلک ایڈمنسٹریشن سنیزانا پاؤنووِچ، سیکرٹری جنرل پیٹر یانجیچ، اور آئی ٹی و ای گورنمنٹ کے ڈائریکٹر میخائلو یووانووِچ سے بھی ہوئیں، جن میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور شراکت داری کے نئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یاد رہے کہ مئی 2022 میں دبئی کے پہلے نائب حکمران، نائب وزیراعظم اور وزیرِ خزانہ شیخ مکتوم بن محمد بن راشد المکتوم کی موجودگی میں یو اے ای اور سربیا کے درمیان حکومتی جدیدیت کے تعاون کا معاہدہ طے پایا تھا۔
یہ معاہدہ 13 کلیدی شعبوں پر مشتمل ہے، جن میں ڈیجیٹل گورنمنٹ، اسمارٹ سروسز، مصنوعی ذہانت، تعلیم، سیاحت، اختراع، تخلیقی صنعتیں، حکومتی میڈیا، کاروباری انکیوبیٹرز اور ایکسپو 2020 کے تجربات شامل ہیں۔

معاہدے کے آغاز سے اب تک 1,000 سے زائد ورکشاپس اور اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں اور 3,000 سے زیادہ ملازمین کو تربیت دی گئی ہے۔

عبداللہ ناصر لُوطہ نے کہا کہ یہ شراکت دونوں ممالک کی قیادت کے فیاضانہ تعاون کی عکاسی کرتی ہے اور حکومتی جدت کے تبادلے کے ایک متاثر کن ماڈل کے طور پر ابھری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یو اے ای حکومت کا یقین ہے کہ قومی ماہرین کی تیار کردہ کامیاب حکومتی خدمات کے ماڈلز کو دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ شیئر کیا جانا چاہیے تاکہ عوامی خدمت اور پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

محمد بن تلیعہ نے کہا کہ یو اے ای کا حکومتی ماڈل آج دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے ایک مثال بن چکا ہے، کیونکہ یہ موثر، آسان اور معیاری خدمات فراہم کرنے پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یو اے ای کے تجربات نے حکومت کو ایک ایسا نظام فراہم کیا ہے جو پائیدار ترقی، مؤثر کارکردگی، اور عالمی تبدیلیوں کے ساتھ تیز رفتار مطابقت پیدا کرتا ہے۔