دبئی، 2 نومبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیرِ اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی ہدایات پر محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹوز نے غزہ کی پٹی کیلئے 4 کروڑ 30 لاکھ درہم مالیت کی غذائی امداد کی ترسیل دوبارہ شروع کی ہے۔ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ خوراک کے تعاون سے انجام دیا جا رہا ہے۔
نئی امدادی کھیپوں کے ذریعے ضرورت مند خاندانوں تک بنیادی غذائی اشیاء اور ریلیف پیکجز پہنچائے جا رہے ہیں۔ یہ ترسیل سرحدی گزرگاہوں کے دوبارہ کھلنے کے فوراً بعد شروع کی گئی، اور یہ اقدام غزہ کے عوام کے لیے متحدہ عرب امارات کی زمینی، بحری اور فضائی امداد کے تسلسل کا حصہ ہے۔
یہ امدادی منصوبہ جنوری 2024 میں اعلان کردہ عزم کا تسلسل ہے، جس کے تحت محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹوز نے عالمی ادارۂ خوراک کے تعاون سے غزہ کے ایک ملین افراد کیلئے 43 ملین درہم (11.7 ملین امریکی ڈالر) کی براہِ راست غذائی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
سال 2023 میں بھی شیخ محمد بن راشد المکتوم نے فلسطینی عوام کیلئے 50 ملین درہم کی ہنگامی امداد فراہم کرنے کی ہدایت دی تھی۔
اس کے علاوہ دبئی ہیومینیٹیرین نے ستمبر 2024 میں مصر کے العریش بندرگاہ کے ذریعے 71.6 ٹن طبی سامان پر مشتمل امدادی کھیپ غزہ بھیجی تھی۔
مزید برآں، محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹوز نے غزہ کے صحت کے شعبے کی بحالی کیلئے 37 ملین درہم (10 ملین امریکی ڈالر) کا وعدہ کیا، جو خاص طور پر بچوں کی طبی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختص ہیں۔
اس موقع پر سمر عبدالجبیر، عالمی ادارۂ خوراک کے مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور مشرقی یورپ کے علاقائی ڈائریکٹر نے کہاکہ، "محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹوز اور عالمی ادارۂ خوراک کے درمیان شراکت انسانیت کی خدمت کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ آج ہم اس تعاون کے ذریعے غزہ کے عوام کو امید فراہم کر رہے ہیں، اور یہ عمل محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹوز کی انسان دوستی کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔"
محمد بن راشد گلوبل انیشیٹوز، جو علاقے کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم ہے، نے 2024 میں 2.2 ارب درہم سے زائد رقم خرچ کی، جس سے 118 ممالک کے 14 کروڑ 90 لاکھ افراد مستفید ہوئے۔
اس کی سرگرمیاں پانچ بنیادی شعبوں پر مشتمل ہیں جن میں انسانی امداد و ریلیف، صحت و امراض پر قابو، تعلیم و علم کا فروغ، اختراع و کاروبار، معاشرتی ترقی و بااختیاری شامل ہیں۔ صرف انسانی امداد و ریلیف کے شعبے میں ہی 944 ملین درہم سے زیادہ خرچ کر کے 37 ملین افراد تک امداد پہنچائی گئی۔
2015 میں قائم شدہ محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹوز 30 سے زائد فلاحی و ترقیاتی اداروں کو یکجا کرتا ہے۔ اس کا مقصد عالمی سطح پر غربت، بیماری اور جہالت جیسے چیلنجز کا مقابلہ کرنا، تعلیم کو عام کرنا اور کمزور طبقات کو بااختیار بنانا ہے تاکہ دنیا بھر میں امید، رواداری اور انسانی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔