ابوظہبی، 3 نومبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی سرپرستی میں ابوظہبی انٹرنیشنل پٹرولیم ایگزیبیشن اینڈ کانفرنس (ایڈیپیک 2025) کا آغاز آج ابوظہبی میں ہوا۔ یہ عالمی تقریب ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ایڈنیک) کی میزبانی میں 6 نومبر تک جاری رہے گی، جس میں دنیا بھر سے توانائی کے ماہرین، سرمایہ کار اور پالیسی ساز شریک ہیں۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ صنعت و جدید ٹیکنالوجی اور ادنوک کے منیجنگ ڈائریکٹر و گروپ سی ای او ڈاکٹر سلطان احمد الجابر نے توانائی کے عالمی رہنماؤں، پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ عملی، حقیقت پسندانہ پالیسیوں کو اپنائیں اور عالمی شراکت داریوں کو مضبوط بنائیں تاکہ روزگار کے مواقع، اقتصادی ترقی اور مسابقت کو فروغ دیا جا سکے۔
ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی حقیقت پسند، ٹیکنالوجی پر مبنی اور سرمایہ کار دوست حکمتِ عملی دنیا کے لیے ایک مثالی ماڈل ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ، "پالیسی نظریاتی نہیں بلکہ عملی ہونی چاہیے۔ حقیقت سے خالی ضابطے معیشتوں کو کمزور اور سرمایہ کاری کو دور کر دیتے ہیں۔"
انہوں نے بتایا کہ ادنوک مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹکس کے ذریعے پیداوار کو بہتر بنا رہا ہے، وقت اور لاگت میں کمی لاتے ہوئے کارکردگی میں اضافہ کر رہا ہے۔ ادنوک کے “انرجی ٹو دی پاور آف اے آئی” پروگرام کے تحت کمپنی کا ہدف دنیا کی پہلی اے آئی پر مبنی توانائی کمپنی بننا ہے، جو 90 فیصد زیادہ درست پیداواری پیش گوئیاں کر سکے گی۔
ڈاکٹر الجابر نے زور دیا کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے، جس کے لیے سالانہ 4 کھرب امریکی ڈالر درکار ہوں گے تاکہ بجلی کے گرڈ، ڈیٹا سینٹرز اور توانائی کی تمام اقسام کی فراہمی میں وسعت لائی جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیاکہ، "آپ کل کی معیشت کو کل کے نظام پر نہیں چلا سکتے۔"
ان کے مطابق، 2040 تک بجلی کی عالمی طلب میں نمایاں اضافہ متوقع ہے جو شہری آبادی، ڈیٹا سینٹرز کے پھیلاؤ اور عالمی فضائی بیڑے کے دوگنا ہونے سے بڑھے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسی عرصے میں قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار دوگنی، ایل این جی میں 50 فیصد اضافہ، جبکہ تیل کی طلب 100 ملین بیرل یومیہ سے زیادہ برقرار رہے گی۔ ان کا کہنا تھاکہ، “توانائی کی منتقلی کا مطلب تبدیلی نہیں بلکہ مضبوطی ہے۔”
ایڈیپیک سے قبل منعقدہ اینیکٹ مجلس کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ ترقی کا انحصار کم کاربن، سستی اور قابلِ اعتماد توانائی پر ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاری کے فروغ، بجلی کی ترسیلی نظاموں، ٹربائنوں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کی رفتار بڑھانے پر زور دیا۔
انہوں نے متحدہ عرب امارات کو ایک قابلِ اعتماد عالمی سرمایہ کاری مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط حکمرانی، شفاف قوانین اور مارکیٹ کی استحکام کی بدولت یو اے ای سرمایہ کاروں کے لیے مثالی ماحول فراہم کرتا ہے۔
ایڈنک اپنی ذیلی کمپنی ایکس آر جی (XRG) کے ذریعے افریقہ، وسطی ایشیا اور امریکہ میں گیس منصوبوں، بنیادی ڈھانچے اور اسمارٹ توانائی حلوں میں بین الاقوامی توسیع کر رہا ہے۔
یومِ پرچم کے موقع پر اپنے اختتامی کلمات میں ڈاکٹر الجابر نے قومی اتحاد اور قیادت کے وژن کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہاکہ، "حقیقی ترقی کسی ایک فرد یا کمپنی کا کارنامہ نہیں، بلکہ اجتماعی استقامت اور عزم سے ہی ممکن ہوتی ہے۔"
ایڈیپیک 2025 نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات عملی توانائی پالیسیوں، اختراع اور عالمی تعاون کے ذریعے پائیدار توانائی کے مستقبل کی قیادت کر رہا ہے۔