یو اے ای انٹرنیشنل پریس کانفرنس 2025، شفافیت، ترقی اور عالمی قیادت کی سمت ایک نیا باب

ابوظہبی، 5 نومبر، 2025 (وام)--یو اے ای گورنمنٹ میڈیا آفس نے پہلی بار "یو اے ای انٹرنیشنل پریس کانفرنس" کا انعقاد کیا، جو یو اے ای گورنمنٹ اینوئل میٹنگز 2025 کا حصہ تھی۔ اس تقریب میں وفاقی وزراء کے ساتھ 200 سے زائد ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی صحافیوں و میڈیا شخصیات نے شرکت کی۔

یہ کانفرنس دراصل حکومتِ امارات اور میڈیا اداروں کے درمیان ایک کھلے مکالمے کے طور پر منعقد کی گئی، تاکہ مختلف شعبوں میں حکومتی پیش رفت، پالیسیوں اور کامیابیوں کو نمایاں کیا جا سکے۔

تقریب میں سرمایہ کاری، توانائی، مصنوعی ذہانت، اور غیر ملکی امداد سے متعلق تازہ پیش رفت کا جائزہ پیش کیا گیا، ساتھ ہی معیشت کی بڑی کامیابیوں اور مستقبل کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

یہ تاریخی تقریب امارات کے اس مؤقف کی عکاس ہے جو شفافیت، مکالمے اور میڈیا کے ساتھ مضبوط شراکت داری پر مبنی ہے۔

وزیرِ کابینہ امور محمد القرقاوی نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد حکومت اور میڈیا کے درمیان اعتماد، کھلے رابطے اور شفافیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی پالیسیوں کو پانچ بنیادی اصول رہنمائی فراہم کرتے ہیں جو ملک کے قیام سے لے کر آج تک فیصلوں اور اقدامات کی بنیاد ہیں۔

القرقاوی نے کہا کہ امارات نے "اقتصادی کشادگی" کی پالیسی اپنائی، جس کے ذریعے دنیا بھر سے سرمایہ کاری، ہنر مند افراد اور اقتصادی شراکت داریوں کو فروغ ملا ہے۔

انہوں نے 2015 کی ورلڈ گورنمنٹ سمٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امارات نے 50 سال بعد اپنے آخری تیل کے بیرل کی برآمد کا جشن منانے کا عزم کیا تھا۔

ان کے مطابق، 2025 کی پہلی ششماہی میں غیر تیل شعبے کا حصہ ملکی جی ڈی پی کا 77.5 فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور 2031 تک 80 فیصد کا ہدف طے کیا گیا ہے، جو موجودہ رفتار سے پہلے حاصل ہو سکتا ہے۔

گزشتہ 10 سالوں میں غیر تیل تجارت کا حجم 27 ٹریلین درہم تک پہنچ چکا ہے، اور توقع ہے کہ اگلی دہائی میں یہ 68 ٹریلین درہم سے تجاوز کر جائے گا۔

القرقاوی نے کہا کہ یہ پالیسی وقتی نہیں بلکہ آئندہ پچاس برسوں کے لیے ایک مستقل عزم ہے۔ “ہم دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ امارات ہمیشہ مواقع کا دروازہ اور مستقبل کا مرکز رہے گا۔”

انہوں نے بتایا کہ امارات کی قیادت نے ہمیشہ متوازن اور باہمی مفادات پر مبنی تعلقات کو فروغ دیا ہے۔

گزشتہ تین برسوں میں 32 ممالک کے ساتھ اقتصادی معاہدے کیے گئے، جبکہ غیر تیل تجارت کی شرحِ نمو 24.5 فیصد رہی جو عالمی اوسط سے 14 گنا زیادہ ہے۔

القرقاوی نے کہا کہ امارات نہ مشرق کا ساتھ دیتا ہے نہ مغرب کا، بلکہ "مستقبل کا ساتھ دیتا ہے، ایک ایسا مستقبل جو استحکام، خوشحالی، ترقی اور امن پر مبنی ہو"۔

وزیرِ کابینہ نے کہا کہ امارات نے ہمیشہ معاشی و تکنیکی چیلنجز کا سامنا فوری فیصلوں اور دور اندیشی سے کیا۔انہوں نے کویڈ-19 کے دوران معیشت کے تحفظ کے لیے کیے گئے بہادرانہ فیصلوں کی مثال دی ہے۔

100 فیصد غیر ملکی ملکیت کی اجازت دینے والے قانون کے بعد گزشتہ پانچ سالوں میں کاروباروں کی تعداد 4 لاکھ سے بڑھ کر 235 فیصد اضافے کے ساتھ 13 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں قوانین کا 80 فیصد حصہ اپڈیٹ کیا گیا، جو امارات کی لچک اور ترقی کی رفتار کو ظاہر کرتا ہے۔

القرقاوی نے کہا کہ، "ہم ٹیکنالوجی کو صرف ایک آلہ نہیں بلکہ ترقی کی بنیاد سمجھتے ہیں"۔ اسی سال امارات نے تمام سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کیا ہے۔

2025 میں مائیکروسافٹ کی رپورٹ کے مطابق کاروباری اداروں میں اے آئی اپنانے کے لحاظ سے امارات دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، جبکہ مئی میں "اسٹارگیٹ" منصوبے کا اعلان کیا گیا جو امریکا سے باہر سب سے بڑا اے آئی انفراسٹرکچر کلسٹر ہے۔

انہوں نے کہاکہ، “ہمیں صرف ٹیکنالوجی کے ساتھ چلنا نہیں بلکہ اس کی قیادت کرنی ہے۔ ہم مستقبل کا انتظار نہیں کریں گے، بلکہ خود اسے تشکیل دیں گے۔”

انہوں نے بتایا کہ 91 فیصد اماراتی شہری اپنے گھروں کے مالک ہیں، جو دنیا میں بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔

صحت کے میدان میں امارات 'زندگی کی متوقع' میں سرفہرست ممالک میں شامل ہے، جبکہ 2025 کے IMD ٹیلنٹ رینکنگ میں امارات کا نواں نمبر ہے۔

"وی دی یو اے ای 2031" وژن کے تحت 67 فیصد اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں، جو معیشت، بین الاقوامی تعاون اور حکومتی کارکردگی سے متعلق ہیں۔

انہوں نے کہاکہ، “امارات کی ہر پالیسی انسان کے گرد گھومتی ہے۔ ہمارا مقصد ایک بہتر، مستحکم اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے۔”

اس موقع پر امارات کے صدر کے سفارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا کہ صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی قیادت میں امارات نے عالمی سطح پر ایک متوازن، حقیقت پسند اور چُست خارجہ پالیسی اپنائی ہے جو تعاون، امن، اور شراکت داری پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امارات کا “اسٹریٹجک خودمختاری” کا تصور مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کے پل بنانے اور مشترکہ شراکت داریوں کو فروغ دینے پر مبنی ہے۔

ڈاکٹر قرقاش نے کہاکہ، “امارات خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے، اور پائیدار ترقی کے لیے نمایاں کوششیں کر رہا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کو اماراتی شناخت کا بنیادی جزو بنایا گیا ہے، اور ملک عالمی سطح پر مشترکہ حل نکالنے میں ایک اہم اثر انگیز قوت بن چکا ہے۔

قرقاش کے مطابق، قیادت کے واضح وژن اور عوام کی امنگوں کے ساتھ امارات مستقبل میں بھی علاقائی و عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ امارات نے اپنے توازن، باہمی مفادات اور احترام پر مبنی تعلقات کے ذریعے بین الاقوامی اعتماد اور ساکھ حاصل کی ہے۔

وزیرِ صنعت و جدید ٹیکنالوجی ڈاکٹر سلطان احمد الجابر نے کہا کہ قیادت کے وژن کی روشنی میں وزارت نے خودکفالت، صنعتی ترقی، برآمدات کے فروغ اور سپلائی چین کے استحکام کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت صنعتی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے، سرمایہ کاری بڑھانے اور پائیدار ترقی کے لیے مضبوط لائحہ عمل پر عمل کر رہی ہے۔ چار سال قبل وزارت کے قیام کے بعد سے صنعتی شعبے کا قومی معیشت میں حصہ 62 فیصد بڑھ کر 190 ارب درہم تک جا پہنچا ہے، جبکہ صنعتی برآمدات 68 فیصد بڑھ کر 197 ارب درہم ہو گئیں۔

ڈاکٹر الجابر نے کہا کہ یہ کامیابی مضبوط قانون سازی، سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ ماحول، اور نجی و سرکاری شراکت داری کے باعث ممکن ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ امارات نے عالمی صنعتی کارکردگی کے اشاریے میں 5 درجے ترقی حاصل کرتے ہوئے دنیا میں 27ویں اور عرب دنیا میں پہلے نمبر پر جگہ بنائی ہے۔ اسی طرح پائیدار ترقی کے معیارِ ڈھانچے (QI4SD) انڈیکس میں امارات پانچویں نمبر پر رہا۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک 28 ہزار سے زائد قومی معیارات اپنائے جا چکے ہیں اور 120 لیبارٹریز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق منظوری دی گئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ، “قیادت کے وژن کی بدولت امارات تیزی سے ایک عالمی صنعتی مرکز بن رہا ہے، جہاں سے جدید مصنوعات دنیا بھر کو برآمد کی جا رہی ہیں۔”

وزیرِ مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریِم الہاشمی نے کہا کہ امارات کی خارجہ پالیسی شراکت، تعاون اور انسانی یکجہتی کے اصولوں پر قائم ہے، کیونکہ امن، ترقی اور استحکام مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں ہی ممکن ہیں۔

انہوں نے کہاکہ، “اپنے قیام سے لے کر آج تک امارات نے ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کو اپنا انسانی فریضہ سمجھا ہے۔”

اب تک امارات نے 370 ارب درہم سے زائد غیر ملکی امداد فراہم کی ہے، جس سے دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ افراد مستفید ہو چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ غزہ میں آپریشن "الفارس الشهم 3" کے تحت امارات نے 9.4 ارب درہم سے زائد امداد، ایک لاکھ ٹن سامان اور 20 لاکھ گیلن پانی فراہم کیا، جبکہ 2,961 مریضوں اور اُن کے ہمراہ افراد کو علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔

گزشتہ دو برسوں میں امارات نے سوڈانی عوام کے لیے 3 ارب درہم کی امداد فراہم کی ہے، جو اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ شراکت میں جاری ہے۔ اسی طرح یمن میں استحکام اور تعمیرِ نو کے لیے 2.61 ارب درہم فراہم کیے گئے۔

الہاشمی نے مزید بتایا کہ امارات نے افغانستان میں 10 زچگی مراکز قائم کیے ہیں اور پاکستان میں 70 کروڑ پولیو ویکسین خوراکیں فراہم کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات امارات کے انسان دوست وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔

وزیرِ معیشت و سیاحت عبداللہ بن طوق المری نے بتایا کہ امارات نے عالمی سطح پر مختلف اقتصادی اشاریوں میں اپنی قیادت کو مزید مستحکم کیا ہے۔

گلوبل انٹرپرینیورشپ مانیٹر (GEM) رپورٹ 2024/2025 کے مطابق امارات چوتھے سال متواتر دنیا میں پہلے نمبر پر رہا، جبکہ 2025 میں علاقے میں سب سے زیادہ وینچر کیپیٹل سرمایہ کاری حاصل کی۔

IMD ورلڈ کمپٹیٹیو نیس رپورٹ 2025 میں امارات پانچویں، اور ڈیجیٹل کمپٹیٹیوی نیس رینکنگ میں گیارہویں نمبر پر رہا۔ مزید یہ کہ فارچون مڈل ایسٹ کی “ٹاپ 100 عرب فیملی بزنسز” فہرست میں 32 اماراتی کمپنیاں شامل ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2025 کی پہلی ششماہی میں 1.61 کروڑ سیاحوں نے اماراتی ہوٹلوں میں قیام کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.5 فیصد اضافہ ہے۔ ملک میں 1,243 ہوٹل موجود ہیں جن میں 2,16,000 کمروں کی گنجائش ہے۔ ہوٹل آمدنی 26.1 ارب درہم رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.3 فیصد اضافہ ہے، جبکہ ہوٹلوں کی اوسط شرحِ اشغال 80.5 فیصد رہی ہے۔

سیاحت اور سفری شعبے کا جی ڈی پی میں حصہ 257.3 ارب درہم (70.1 ارب ڈالر) تک پہنچ گیا، جو 2023 کے مقابلے میں 3.2 فیصد اضافہ کے ساتھ قومی معیشت کا 13 فیصد ہے۔

وزیرِ مملکت برائے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور ریموٹ ورک ایپلی کیشنز عمر سلطان العلماء نے کہا کہ حکومت نے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے کئی نئی پالیسی اقدامات کا آغاز کیا ہے۔

ان میں ٹیک ایکسپیریمنٹ انوویشنز انیشی ایٹو، “اے آئی اِن دی فیلڈ” انڈیکیٹر، ڈیجیٹل اکانومی اکیڈمی، نیشنل پلیٹ فارم برائے ڈیجیٹل جابز، اور ڈیجیٹل اکانومی سی ٹی او پروگرام شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یو اے ای حکومت مستقبل کی ٹیکنالوجی اپنانے، اسے فروغ دینے اور معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ عزم حکومت کے اس جامع وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز رفتار بنانا، پائیدار ترقی کو فروغ دینا، اختراع کو مضبوط کرنا اور عالمی مسابقت میں برتری حاصل کرنا ہے۔