نیویارک، 13 نومبر، 2025 (وام) --دبئی چیمبرز کے چیئرمین سلطان بن سعید المنصوری کے مطابق دبئی کی امریکا کو برآمدات 2018 میں 19.1 ارب درہم سے بڑھ کر 2024 میں 34.1 ارب درہم ہو گئیں، جو سات سال میں 78.5 فیصد اضافہ ہے۔ یہ پیش رفت دبئی اور امریکا کے مضبوط معاشی تعلقات کی واضح عکاسی کرتی ہے۔
امارات نیوز ایجنسی (وام) سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ امریکا سے دبئی کی درآمدات بھی 2018 کے 61 ارب درہم سے بڑھ کر 2024 میں 82.2 ارب درہم تک پہنچ گئیں، جو 34.7 فیصد اضافہ ہے۔
سلطان المنصوری نے کہا کہ امریکی سرمایہ کاری میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ 2015 سے 2024 کے دوران امریکا سے 1,474 غیرملکی سرمایہ کاری منصوبے دبئی میں شروع ہوئے جن کی مالیت 79.6 ارب درہم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس عرصے میں امریکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا حصہ سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے میں آیا، جس کی مالیت 28.3 ارب درہم رہی۔ اس کے بعد سافٹ ویئر اور آئی ٹی سروسز 20.2 ارب درہم کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں، جبکہ بزنس سروسز، تفریح اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں بھی نمایاں سرمایہ کاری ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی کاروباری برادری کا دبئی کی معیشت پر اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔ 2021 کے آخر میں دبئی چیمبر آف کامرس میں 1,139 امریکی کمپنیاں رجسٹرڈ تھیں، جو اس سال ستمبر کے آخر تک بڑھ کر 3,690 ہو گئیں — یعنی 224 فیصد اضافہ، جو چار سال سے بھی کم عرصے میں ریکارڈ کیا گیا۔
نیویارک میں دبئی چیمبرز کے پہلے نمائندہ دفتر کے افتتاح کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ اقدام امریکا کے اہم مالیاتی مرکز میں کاروباری تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی بڑی پیش رفت ہے۔ اس کا مقصد دبئی کی عالمی کاروباری حیثیت کو مضبوط کرنا اور امریکی کمپنیوں کے توسیعی منصوبوں میں دبئی کی موجودگی کو بڑھانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیویارک میں منعقد ہونے والا دبئی بزنس فورم امریکی سرمایہ کاروں کو براہِ راست دبئی کی نئی معاشی ترجیحات — خصوصاً ڈی33 ایجنڈا — سے روشناس کرانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے، جو علم، جدید ٹیکنالوجی اور پائیداری پر مبنی متنوع معیشت کی بنیاد رکھتا ہے۔