ابوظہبی، 14 نومبر 2025 (وام)--ریاستی سلامتی کے استغاثہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے امارات نیوز ایجنسی (وام) کو بتایا ہے کہ سوڈان کے لیے فوجی ساز و سامان کی غیرقانونی منتقلی کی کوشش سے متعلق کیس کی تمام تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں، اور ملزمان کو عدالتی کارروائی کے لیے جلد ہی ریفر کیا جائے گا۔ یہ اقدام امارات کے شفافیت، قانون کی بالادستی اور انصاف کے اصولوں کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل 30 اپریل کو امارات کے اٹارنی جنرل نے اعلان کیا تھا کہ سیکیورٹی اداروں نے اسلحہ اور فوجی سامان کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی ہے اور اس کارروائی میں ملوث ایک سیل کے افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کی سرگرمیوں میں خفیہ بروکرج، غیرعلانیہ کمیشنز کی وصولی، خفیہ مالی لین دین اور منی لانڈرنگ شامل تھیں۔
حکام نے بتایا کہ ملزمان کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ملک کے ایک ہوائی اڈے پر کھڑے ایک نجی طیارے میں 54.7x62 ملی میٹر گوریونوف قسم کے فوجی گرِیڈ گولہ بارود کا معائنہ کر رہے تھے۔ دو ملزمان کے قبضے سے اس ڈیل سے متعلق غیرقانونی مالی رقوم بھی برآمد کی گئیں۔
یہ کارروائی پبلک پراسیکیوشن کی نگرانی میں اور اٹارنی جنرل کی جانب سے جاری کردہ عدالتی وارنٹس کے تحت کی گئی، جن میں گرفتاری اور تلاشی کی منظوری شامل تھی۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ سیل کے ارکان کی سوڈانی فوجی حکام، افسران، سیاستدانوں اور تاجروں کے ساتھ براہِ راست لین دین تھا۔ معاملہ سوڈانی مسلح افواج کی آرمامنٹ کمیٹی کی درخواست پر آگے بڑھایا جا رہا تھا، جس کی سربراہی عبدالفتاح البرہان اور ان کے نائب یاسر العطا کرتے ہیں، جبکہ مالی امور کی نگرانی عثمان الزبیر انجام دے رہے تھے۔ استغاثہ کے مطابق مزید نام بھی جلد جاری کیے جائیں گے۔
تحقیقات میں ایک اہم انکشاف یہ بھی ہوا کہ فوجی معاہدوں کی فنڈنگ کے ذرائع حیران کن تھے، جن میں ثابت شدہ شواہد جیسے آڈیو وڈیو ریکارڈنگز، پیغامات، دستاویزات، معاہدے اور مالی ریکارڈز شامل ہیں۔ تکنیکی کمیٹی کی رپورٹوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فنڈنگ کا کچھ حصہ یو اے ای میں کام کرنے والے ایک بینک کے ذریعے منتقل کیا گیا تھا۔
ریاستی سلامتی کے عہدیدار نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ امارات کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گا جو ریاستی سلامتی، علاقائی استحکام یا عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرے، اور نہ ہی ملک کو تنازعات کے گزرگاہ یا اسلحہ اسمگلروں کے لیے پناہ گاہ بننے دیا جائے گا۔