امدادی قافلہ 244 غزہ میں داخل، ’اولیو چلڈرن‘ مہم کے تحت یتیم بچوں کیلئے خصوصی امداد

غزہ، 16 نومبر، 2025 (وام) --متحدہ عرب امارات کی جانب سے غزہ کی عوام کیلئے جاری 'آپریشن الفارس الشهم 3' کے تحت 244واں امدادی قافلہ آج غزہ پٹی میں داخل ہوا۔ اس قافلے میں 'اولیو چلڈرن'(Olive Children) مہم کے تحت غزہ کے یتیم بچوں کے لیے خصوصی امداد شامل تھی، جس کا مقصد ان کے بنیادی ضروریات پوری کرنا اور مشکل حالات میں ان کا سہارا بننا ہے۔

22 ٹرکوں پر مشتمل اس قافلے میں 426 ٹن امدادی سامان شامل تھا، جن میں بچوں کے کپڑوں کے پیکجز جن میں نئے ملبوسات اور اشیائے ضرورت شامل ہیں — کے ساتھ ساتھ غذا کے پیکٹس، چاول اور شیلٹر مواد شامل تھے، تاکہ متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات پوری کی جا سکیں۔

العرائش میں قائم یو اے ای ہومینیٹریان ایڈ لاجسٹکس سینٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر احمد النیادی نے بتایا کہ:

“یہ قافلہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس کا بڑا حصہ غزہ کے یتیم بچوں کے لیے مخصوص ہے۔ اس میں بچوں کے لیے نئے کپڑے اور ضروری اشیاء پر مشتمل خصوصی پیکجز شامل ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ اقدام ان بچوں کے دلوں میں مشکل وقت میں بھی کچھ خوشی اور مسکراہٹیں پیدا کرے گا۔”

یہ خصوصی مہم گزشتہ رمضان میں اہلیہ حکمرانِ شارجہ، چیئرپرسن بگ ہارٹ فاؤنڈیشن، اور اقوامِ متحدہ ہائی کمشنر برائے مہاجرین میں مہاجر بچوں کی نمایاں ترجمان شیخہ جواہر بنت محمد القاسمی نے فلسطینی غیر منفعتی تنظیم ’تعاون‘ کے اشتراک سے شروع کی تھی۔ اس کا مقصد 20 ہزار سے زائد غزہ کے یتیم بچوں کو تعلیم، صحت، نفسیاتی تعاون اور بنیادی ضروریات فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ سنِ بلوغت تک محفوظ اور باعزت زندگی گزار سکیں۔

مہم کے تحت بگ ہارٹ فاؤنڈیشن نے ’اولیو چلڈرن‘ کے لیے لباس کے خصوصی بکس تیار کیے جن میں غزہ کے بچوں کے لیے نئے کپڑے اور اہم اشیائے ضرورت شامل ہیں، تاکہ ان کے حالاتِ زندگی میں بہتری لائی جاسکے اور مشکل حالات میں انہیں کچھ سہولت اور خوشی دی جا سکے۔

یہ مہم، ’آپریشن الفارس الشهم 3‘ کے تعاون سے مکمل کی گئی، جس کے تحت العرائش لاجسٹکس سینٹر سے امداد تیار اور روانہ کی جاتی ہے تاکہ امداد فوری طور پر مستحقین تک پہنچ سکے۔

یہ قافلہ اس سلسلے کی کڑی ہے جو امارات نے غزہ کے عوام کے لیے فضائی، زمینی اور سمندری امدادی پل کے ذریعے فراہم کی ہے، جس میں مختلف اماراتی فلاحی اداروں کی بھرپور شمولیت شامل ہے۔ یہ سلسلہ امارات کے اس مستقل انسانی نظریے کی عکاسی کرتا ہے جو حالات یا وقت سے متاثر نہیں ہوتا۔

النیادی نے مزید کہا کہ یہ آپریشن امارات کے دیرینہ انسانی مشن کا تسلسل ہے، جو قیادت اور عوام دونوں کے فلسطینی عوام کے ساتھ ثابت قدم موقف کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’آپریشن فارسِ شجاع 3‘ اماراتی فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر ہر ممکن طریقے سے غزہ کے عوام تک مدد، ریلیف اور تعاون پہنچا رہا ہے۔

آپریشن، جو اماراتی قیادت کی ہدایات کے تحت دو سال سے زائد عرصے سے جاری ہے — غزہ کے عوام کو خوراک، ادویات، شیلٹر، صحت کی سہولیات اور نفسیاتی و سماجی معاونت فراہم کرنے پر کام کر رہا ہے۔ اس مقصد کیلئے العرائش میں ایک مکمل فعال لاجسٹکس سینٹر قائم کیا گیا ہے جو امدادی قافلوں کی تیاری اور روانگی کے تمام مراحل سنبھالتا ہے۔

اب تک، آپریشن کے تحت 1 لاکھ ٹن سے زائد امداد پہنچائی جا چکی ہے، جو امارات کے اس ثابت قدم مؤقف کی واضح مثال ہے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے فلسطینی عوام کی تکالیف کم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔