ابوظہبی، 16 نومبر، 2025 (وام) --متحدہ عرب امارات نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ الاقصیٰ کے صحنوں پر بار بار حملے، نمازیوں کو اشتعال دلانا اور کفیل حارس کے مقام پر مسجد پر حملہ خطرناک صورتِ حال کو مزید بھڑکا رہا ہے۔ امارات نے خبردار کیا کہ اس طرح کی من مانی کارروائیاں خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام بڑھانے کا باعث بن سکتی ہیں۔
وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امارات کا موقف واضح اور دوٹوک ہے، اور وہ مطالبہ کرتا ہے کہ الاقصیٰ مسجد میں ہونے والی سنگین اور اشتعال انگیز خلاف ورزیوں کو فوری طور پر روکا جائے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ مقدس مقامات کی نگہداشت میں ہاشمی مملکتِ اردن کے تاریخی اور قانونی کردار کا احترام کیا جائے، اور القدس اوقاف انتظامیہ کی اختیار کردہ ذمہ داریوں میں کسی قسم کی مداخلت نہ کی جائے۔
وزارت نے بتایا کہ امارات، اردن کی جانب سے مذہبی اہمیت کے حامل مقامات کے تحفظ کے لیے کیے گئے تمام اقدامات کی مکمل حمایت اور یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
مزید برآں، وزارت نے اسرائیلی حکام کو جاری کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کریں جو خطے میں مزید بگاڑ کو روک سکیں۔ امارات نے واضح کیا کہ وہ ہر اس عمل کو مسترد کرتا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہو اور امن کے امکانات کو کمزور بناتا ہو۔
آخر میں، وزارت نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایسی کوششوں کو تیز کرے جو دو ریاستی حل کی بنیاد پر جامع اور پائیدار امن کے لیے سیاسی راستہ ہموار کریں اور فلسطینی عوام کے آزاد و خودمختار ریاست کے حق کو یقینی بنائیں۔