شیخ خالد بن محمد کا دبئی ایئر شو 2025 کا دورہ، جدید دفاعی و فضائی ٹیکنالوجیز کا جائزہ

دبئی، 17 نومبر، 2025 (وام) --ابوظہبی کے ولی عہد اور ابوظہبی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین عزت مآب شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان نے دبئی ورلڈ سنٹرل میں جاری دبئی ایئر شو 2025 میں مختلف پویلینز کا دورہ کیا، جو 21 نومبر تک جاری رہے گا۔

اپنے دورے کے دوران انہوں نے ہوا بازی، خلائی علوم اور دفاعی صنعت میں پیش کی جانے والی جدید ترین اختراعات اور ٹیکنالوجیز کا جائزہ لیا، جن میں بغیر پائلٹ کے فضائی نظام، اسمارٹ ڈفنس سلوشنز اور جدید فضائی آپریشنز کے لیے معاون ٹیکنالوجیز شامل تھیں۔ ایئر شو میں پیش کی گئی ماحول دوست اور پائیدار ہوا بازی سے متعلق نئی پہلوں اور جدتوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔

شیخ خالد نے مختلف بین الاقوامی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز سے ملاقاتیں کیں، جنہوں نے انہیں مستقبل کے منصوبوں، نئی ٹیکنالوجیز اور شعبہ جاتی رجحانات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ایئر شو میں پیش کردہ جدید حل، خصوصاً بغیر پائلٹ فضائی نظام اور اسمارٹ دفاعی ٹیکنالوجیز، اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہوا بازی اور خلائی شعبوں میں تیز رفتار ترقی جاری ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عملی کارکردگی میں اضافہ اور مستقبل کی ضروریات کے لیے شعبوں کی مضبوط تیاری کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے دبئی ایئر شو کو ایک عالمی پلیٹ فارم قرار دیا جو دنیا بھر کی نمایاں کمپنیوں، ماہرین اور فیصلہ سازوں کو ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے۔

شیخ خالد نے کہا کہ یہ عالمی ایونٹ نہ صرف متحدہ عرب امارات کی حیثیت کو خطے کے اہم جدت انگیزی کے مرکز کے طور پر مضبوط بناتا ہے بلکہ عالمی تعاون اور حکمتِ عملی شراکت داریوں کے مواقع بھی بڑھاتا ہے۔

دورے کے دوران ان کے ہمراہ عزت مآب شیخ زاید بن محمد بن زاید النہیان، ابوظہبی کے ولی عہد کے دیوان کے چیئرمین شیخ خلیفہ بن تحنون بن محمد النہیان، متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر برائے اسٹریٹجک ریسرچ اینڈ ایڈوانس ٹیکنالوجی افیئرز اور ایڈوانس ٹیکنالوجی ریسرچ کونسل کے سیکرٹری جنرل فیصل عبدالعزیز البنّائی، متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عیسی سیف بن ابلان المزروعی، محکمہ بلدیات اور ٹرانسپورٹ کے چیئرمین محمد علی الشروفہ، ابوظہبی ایگزیکٹو کونسل کے سیکرٹری جنرل اور ولی عہد کے دفتر کے چیئرمین سیف سعید غباش اور یو اے ای آرمڈ فورسز کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔