ابوظہبی، 19 نومبر، 2025 (وام) --دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (DXB) نے اپنی 65 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ سہ ماہی ٹریفک ریکارڈ کرتے ہوئے جولائی سے ستمبر 2025 تک 2 کروڑ 42 لاکھ مسافروں کو خوش آمدید کہا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.9 فیصد اضافہ ہے۔
تیسرے سہ ماہی کی اس مضبوط کارکردگی کے باعث سال کے پہلے نو ماہ کے دوران مجموعی مسافروں کی تعداد 7 کروڑ 1 لاکھ تک پہنچ گئی، جو سالانہ بنیادوں پر 2.1 فیصد اضافہ ہے۔ ستمبر کے اختتام تک ایئرپورٹ کا بارہ ماہ کا مجموعی ٹریفک 9 کروڑ 38 لاکھ کے نئے ریکارڈ پر پہنچ گیا۔
رپورٹ کے مطابق تیسرے سہ ماہی میں 1 لاکھ 15 ہزار پروازیں ریکارڈ کی گئیں، جب کہ جنوری سے ستمبر تک مجموعی طور پر 3 لاکھ 36 ہزار پروازیں ہوئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.7 فیصد زیادہ ہیں۔ ستمبر کے آخر تک فی طیارہ اوسط 213 مسافر رہے۔
دبئی ایئرپورٹس کا کہنا ہے کہ DXB کی شاندار کارکردگی کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے بھی بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی جاری ہے۔
ایئرپورٹ میں مسافروں کے تجربے کو مزید بہتر بنانے کے لیے ٹرمینلز میں بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ٹرمینل تھری میں سی بی سنٹرل ایک نیا اور منفرد زون ہوگا جو دبئی کے بڑے برانڈز اور جدید تجربات پیش کرے گا، جب کہ سی بی ایسٹ کو خاندانوں کے لیے تفریحی ماحول، کھانے پینے کے مقامات اور ہر عمر کے افراد کے لیے سرگرمیوں سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح سی بی ویسٹ ایئرپورٹ کا نیا مرکزی علاقہ بنے گا جہاں مسافروں کو خریداری اور آرام دہ ڈائننگ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ٹرمینل ون کے کنکورس ڈی میں قائم سی ڈی سنٹرل کو بھی ازسرِنو ڈیزائن کیا جا رہا ہے، جہاں فضائی مناظر کے ساتھ کشادہ بیٹھک گاہیں، جدید مسافر معلوماتی نظام اور اہم ریٹیل اسٹورز تک آسان رسائی فراہم کی جائے گی۔
نیا ایئرپورٹ مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ایک اسمارٹ گلوبل ایوی ایشن ہب کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد فضائی رابطوں، کارکردگی، اور پائیداری کو نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔
دبئی ایئرپورٹس کے سی ای او پال گرفِتھس نے کہا کہ DXB کے ریکارڈ نتائج دبئی کے ایوی ایشن اور سیاحت کے شعبوں کی مضبوطی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق،
“DWC کا وژن صرف گنجائش بڑھانے تک محدود نہیں، بلکہ سفر کے پورے تجربے کی ازسرِنو تشکیل ہے۔ ہمارا ہدف اسمارٹ ٹیکنالوجی، پائیداری اور بہترین خدمات کے امتزاج کے ساتھ عالمی سفر کا مستقبل طے کرنا ہے۔”
سال کے پہلے نو ماہ میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے سب سے اہم ملکوں کی فہرست میں بھارت رہا، جہاں سے 88 لاکھ مسافر آئے، جب کہ سعودی عرب 55 لاکھ کے ساتھ دوسرے، برطانیہ 46 لاکھ کے ساتھ تیسرے اور پاکستان 32 لاکھ کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا۔ امریکہ سے آنے والے مسافروں کی تعداد بھی قابلِ ذکر رہی جو 24 لاکھ تک پہنچی۔
شہری منازل میں لندن 28 لاکھ مسافروں کے ساتھ سرفہرست رہا، اس کے بعد ریاض 23 لاکھ، ممبئی 18 لاکھ، جدہ 17 لاکھ اور نئی دہلی 16 لاکھ کے ساتھ نمایاں منازل میں شامل رہے۔ بیرونِ ملک سیاحتی سفر کے لیے ملائیشیا، ویتنام، چیک ریپبلک، ازبکستان اور ڈنمارک وہ ممالک رہے جنہیں مسافروں نے سب سے زیادہ ترجیح دی۔
سامان اور کلیئرنس کے شعبوں میں بھی ایئرپورٹ نے مثالی کارکردگی دکھائی۔ پہلے نو ماہ کے دوران 6 کروڑ 38 لاکھ بیگز ہینڈل کیے گئے جن میں سے 90 فیصد بیگز طیارے کے لینڈ کرنے کے 45 منٹ کے اندر مسافروں تک پہنچا دیے گئے۔ غلط ہینڈلنگ کی شرح انتہائی کم رہی جو صرف 0.1 فیصد تھی، یعنی ہر ہزار میں صرف دو بیگز متاثر ہوئے۔ پاسپورٹ کنٹرول کے عمل میں بھی رفتار برقرار رہی، جس کے تحت 99.6 فیصد روانہ ہونے والے مسافروں نے 10 منٹ سے کم وقت میں کلیئرنس حاصل کی، جب کہ 99.8 فیصد آنے والے مسافروں کا انتظار کا وقت 15 منٹ سے کم رہا۔ سیکیورٹی چیکنگ کے دوران بھی 99.7 فیصد مسافر 5 منٹ سے کم وقت میں کلیر ہو گئے، جو ایئرپورٹ کے مؤثر انتظام کی واضح مثال ہے۔
ایئرپورٹ کی تاریخ ساز کارکردگی ایک بار پھر ظاہر کرتی ہے کہ دبئی عالمی معیشت، سیاحت اور تجارت کا اہم مرکز ہے جہاں ایوی ایشن کا کردار مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔