یو اے ای اور جنوبی کوریا کا سیپا معاہدہ 2025 کے اختتام تک نافذ ہونے کی توقع

ابوظہبی، 19 نومبر، 2025 (وام) --متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے کہا کہ یو اے ای اور جنوبی کوریا کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سیپا) اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے جبکہ 2025 کے اختتام تک اس معاہدہ کے نافذ ہونے کی توقع ہے۔

ڈاکٹر الزیودی نے یہ بات ابوظہبی میں شروع ہونے والے یو اے ای – کوریا بزنس راؤنڈ ٹیبل کے موقع پر ایمریٹس نیوز ایجنسی، وام کو دیے گئے بیان میں کہی، جس کا محور دفاع، توانائی، خوراک اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سیپا معاہدہ دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعلقات کو نئی وسعت دے گا، جس کے تحت اہم محصولات میں کمی یا خاتمہ، غیر ٹیرف رکاوٹوں کا ازالہ، اشیا و خدمات کی تجارت میں آسانی اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے بہاؤ کو سہل بنایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یو اے ای اور کوریا پائیدار ترقی کے لیے تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تنوع کے مشترکہ وژن کے حامل ہیں، اور سیپا معاہدہ اس شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کا دورۂ امارات دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کی اہمیت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔

ڈاکٹر الزیودی کے مطابق دونوں ممالک نے خوراک، کاسمیٹکس، فنانس، توانائی، مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری خصوصاً پُرامن جوہری توانائی کے شعبے میں، اور پیٹرولیم سمیت مختلف شعبوں میں متعدد مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جو سرمایہ کاری کے وسیع مواقع کی عکاسی کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ راؤنڈ ٹیبل میں متحدہ عرب امارات کے نجی شعبے کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آئی، جہاں 25 سے زائد اماراتی کمپنیوں نے مستقبل کی تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لینے کے لیے حصہ لیا۔

وزیر نے یہ بھی بتایا کہ 2024 میں یو اے ای اور کوریا کے درمیان غیر تیل تجارت 6.6 ارب ڈالر رہی، جو 11 فیصد سے زائد اضافہ ہے، جب کہ 2025 کی پہلی ششماہی میں تجارت 3.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو دونوں ممالک کے مضبوط اور ترقی پاتے اقتصادی تعلقات کی واضح مثال ہے۔