ابوظہبی، 20 نومبر، 2025 (وام) --متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے آج ’’یو اے ای گلوبل سینٹر آف ٹریڈ‘‘ پروگرام کا باضابطہ آغاز دیکھا، جو وزارتِ خارجہ تجارت کی نئی حکمتِ عملی ہے اور امارات کو عالمی تجارت کے اہم ترین مراکز میں شامل کرنے کی جامع کوششوں کا حصہ ہے۔
پروگرام کا مقصد ملک کو سامان و خدمات کے لیے عالمی دروازہ بنانا، غیر تیل تجارت کے قومی اہداف میں تیزی لانا، اور اماراتی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں کھولنا ہے۔
شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ایسا اقتصادی پروگرام شروع کیا ہے جو عالمی تجارت میں ملک کی پوزیشن کو مزید مضبوط کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس حکمتِ عملی کے ذریعے دنیا کی ایک ہزار بڑی تجارتی کمپنیوں کو امارات کی جانب راغب کرنے اور ایک ڈیجیٹل گیٹ وے قائم کرنے کا ہدف ہے جو ہزاروں اماراتی برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں سے جوڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے نتیجے میں اماراتی مصنوعات کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے، برآمدات کے نئے راستے کھلیں گے اور امارات کا کردار عالمی تجارتی راہداریوں میں مرکزی حیثیت اختیار کرے گا۔
وزارتِ خارجہ تجارت کے تحت تیار کیا گیا یہ پروگرام آٹھ بڑے اقدامات پر مشتمل ہے، جو غیر تیل برآمدات میں اضافہ، عالمی کمپنیوں کی توجہ، جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال، اور نئی منڈیوں کی نشاندہی کے ذریعے ملک کی عالمی تجارتی حیثیت کو مزید مضبوط کرے گا۔
وزارتوں، سرکاری اداروں، چیمبرز آف کامرس اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے شروع کیا گیا یہ پروگرام امارات کی عالمی اقتصادی نقشے پر نمایاں پوزیشن اور بین الاقوامی تجارت کے بڑے مرکز کے طور پر اس کے کردار کو مزید مستحکم کرنے کی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔
وزیرِ مملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے کہا کہ اس پروگرام کی منظوری اماراتی قیادت کے اس وژن کی عکاسی کرتی ہے کہ تجارت معاشی ترقی، تنوع اور جدت کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی اقدامات سے عالمی تجارت میں ملک کا حصہ مزید بڑھے گا، اماراتی برآمد کنندگان کے لیے نئی راہیں کھلیں گی اور بین الاقوامی سطح پر پھیلنے کی خواہش رکھنے والی کمپنیوں کو بھرپور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
ڈاکٹر الزیودی نے مزید کہا کہ برآمدات کو آسان بنانے کے لیے نئے ٹولز، مصنوعی ذہانت کے ذریعے نئی منڈیوں کی نشاندہی، نجی شعبے کی عالمی سطح پر نمائندگی، اور کاروباری اداروں کو تجارتی نیٹ ورک سے فائدہ اٹھانے کی تربیت جیسے اقدامات ملک کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جو امارات کی مستقبل کی خوشحالی کے امکانات کو مضبوط بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام ایسے وقت میں شروع کیا گیا ہے جب متحدہ عرب امارات کی غیر تیل عالمی تجارت تاریخی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔
2025 کے پہلے نو ماہ میں غیر تیل تجارت 24.6 فیصد اضافے کے ساتھ 2.67 ٹریلین درہم رہی، جبکہ غیر تیل برآمدات 42.6 فیصد اضافہ کے ساتھ 579.4 ارب درہم تک پہنچ گئیں۔
اسی عرصے میں ری-ایکسپورٹس کی مالیت 597.7 ارب درہم رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے، جبکہ امارات کی درآمدات 1.5 ٹریلین درہم رہیں، جن میں 22.8 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
پروگرام آٹھ اہم اقدامات پر مشتمل ہے جن میں عالمی تجارتی کمپنیوں کو امارات میں راغب کرنا شامل ہے، جس کے تحت 1,000 بڑی برآمدی اور ری ایکسپورٹ کمپنیوں کو یہاں اپنے دفاتر قائم کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے وزارتِ خارجہ، وزارتِ سرمایہ کاری، امارات چیمبرز، مقامی اقتصادی محکمے، ابوظبی پورٹس اور ڈی پی ورلڈ کو اسٹریٹجک شراکت دار بنایا گیا ہے۔
اسی طرح ’یو اے ای ایکسپورٹ پورٹل‘ کے ذریعے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کیا جائے گا جو برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں تک تیز رسائی، اے آئی کی مدد سے نئی منڈیوں کی نشاندہی اور کسٹم سے متعلق رہنمائی فراہم کرے گا، جبکہ ہدف 10,000 کمپنیوں کو عالمی تجارت سے جوڑنا ہے۔
’ریڈی ٹو ٹریڈ پروگرام‘ کے ذریعے آن لائن اور آف لائن تربیتی کورسز فراہم کیے جائیں گے تاکہ اماراتی برآمد کنندگان عالمی مقابلے کے لیے درکار مہارتیں حاصل کر سکیں۔ ’یو اے ای ٹریڈ ڈیز‘ کے تحت منتخب ممالک میں تجارتی تقریبات منعقد کی جائیں گی جن میں اماراتی مصنوعات کی نمائش اور بین الاقوامی خریداروں سے براہِ راست رابطے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ ’یو اے ای انٹرنیشنل ٹریڈ ایکسپو‘ ایک عالمی تجارتی پلیٹ فارم ہوگا جس میں 50 ممالک کی 600 کمپنیوں کی شرکت اور 100,000 سے زائد زائرین کی آمد متوقع ہے۔
’یو اے ای ٹریڈرز آف دی فیوچر پروگرام‘ آئندہ نسل کے اماراتی تاجروں کی تربیت کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ عالمی تجارت، مالیاتی انتظام اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال میں مہارت حاصل کر سکیں۔ ’ینگ ٹریڈرز پروگرام‘ اسکول اور یونیورسٹی کے طلبہ کو عالمی تجارت کی بنیادی سمجھ، مصنوعات کے سفر، کاروباری اصولوں، اور عملی مشاہداتی دوروں کے ذریعے تربیت فراہم کرے گا۔
جبکہ آخری اقدام کے طور پر ’مصنوعی ذہانت کے ذریعے غیر تیل تجارت کی بہتری‘ کے تحت 15 سمارٹ سسٹمز تیار کیے جائیں گے جو اے آئی کی مدد سے عالمی منڈیوں کے رجحانات، رسک مینجمنٹ، سپلائی چین کی پیش گوئی اور تجارتی امکانات کا تجزیہ فراہم کریں گے۔ یہ تمام اقدامات مل کر امارات کو عالمی تجارت کا جدید ترین اور مؤثر مرکز بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
’’یو اے ای گلوبل سینٹر آف ٹریڈ‘‘ پروگرام متحدہ عرب امارات کو عالمی تجارت کے نمایاں ترین مراکز میں شامل کرنے کی بڑی پیش رفت ہے۔ وزارتِ خارجہ تجارت کی زیر نگرانی یہ منصوبہ غیر تیل تجارت میں اضافے، اماراتی برآمدات کو مضبوط بنانے اور دنیا بھر کی کمپنیوں کو ملک میں کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔