ابوظہبی، 23 نومبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کی سائبر سیکیورٹی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ غیر محفوظ عوامی چارجنگ پورٹس کے استعمال سے ذاتی ڈیٹا کے افشا ہونے کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ کونسل کے مطابق، 79 فیصد مسافر جب غیر محفوظ عوامی چارجنگ اسٹیشنز پر اپنے ڈیوائسز چارج کرتے ہیں تو بلا ارادہ اپنے ذاتی ڈیٹا کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
کونسل نے وضاحت کی کہ کچھ عوامی چارجنگ پورٹس میں خفیہ سافٹ ویئر یا نظام موجود ہو سکتے ہیں، جو کہ "juice jacking" نامی حملے کے ذریعے ڈیوائسز کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہ حملے اس وقت فعال ہوتے ہیں جب ڈیوائسز خودکار طریقے سے میڈیا یا امیج ٹرانسفر پروٹوکول کے تحت جڑتے ہیں۔
وام سے گفتگو کرتے ہوئے، سائبر سیکیورٹی کونسل نے بتایا کہ احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنا اور غیر محفوظ پورٹس کا استعمال پاس ورڈ اور ڈیٹا چوری یا نقصان دہ سافٹ ویئر کی تنصیب کا سبب بن سکتا ہے، جو صارف کی لاعلمی میں انجام پاتا ہے۔
کونسل کے مطابق، 68 فیصد کمپنیاں ایسے حملوں کا شکار ہو چکی ہیں جو غیر محفوظ چارجنگ ذرائع سے شروع ہوئے، جس کے نتیجے میں ڈیٹا چوری اور ڈیجیٹل نظام کو نقصان پہنچا ہے۔
سائبر سیکیورٹی کونسل کے مطابق، ایسے سائبر حملوں کی کچھ واضح علامات ہو سکتی ہیں جن سے صارف کو محتاط ہو جانا چاہیے۔
ان میں بیٹری کا غیر معمولی طور پر تیزی سے ختم ہونا، ایپلیکیشنز کی کارکردگی میں غیر معمولی سستی، نظام کا بار بار کریش ہونا، اور ڈیوائس پر اجنبی علامات یا پیغامات کا ظاہر ہونا شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، کونسل نے کئی احتیاطی تدابیر بھی تجویز کی ہیں تاکہ صارفین ایسے خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔ ان میں سب سے اہم مشورہ یہ ہے کہ سفر کے دوران ہمیشہ ذاتی چارجر کا استعمال کیا جائے اور عوامی چارجنگ اسٹیشنز سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔
چارجنگ کے دوران اگر کوئی ڈیٹا ٹرانسفر کی درخواست آئے تو فوراً اسے مسترد کر دینا چاہیے۔ مزید برآں، کونسل نے صارفین کو ہدایت دی ہے کہ وہ دو سطحی حفاظتی تصدیق (ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن) کو فعال رکھیں، فنگر پرنٹ یا چہرے کی شناخت جیسے بایومیٹرک لاگ ان فیچرز استعمال کریں، اور ایپلیکیشنز کی اجازتوں کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہیں تاکہ تصاویر، پیغامات اور رابطہ نمبرز تک کسی غیر ضروری یا مشتبہ رسائی کو روکا جا سکے۔
کونسل نے زور دیا کہ انسٹال کی گئی ایپلیکیشنز کی حفاظت کی تصدیق ضروری ہے، کیونکہ بعض ایپس میں خطرناک سافٹ ویئر چھپا ہو سکتا ہے جو ڈیٹا چوری، جاسوسی، مالیاتی فراڈ اور بینک کارڈز کی معلومات کے افشا کا باعث بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ سائبر سیکیورٹی کونسل نے حال ہی میں "سائبر پلس" (Cyber Pulse) کے تحت ایک ہفتہ وار آگاہی مہم شروع کی ہے، جس کا مقصد عوام کو محفوظ ڈیجیٹل رویوں کے بارے میں آگاہ کرنا اور سائبر خطرات سے بچاؤ کی تدابیر فراہم کرنا ہے۔ یہ مہم متحدہ عرب امارات کی جانب سے محفوظ سائبر اسپیس کی تعمیر اور ڈیجیٹل ٹرسٹ کو فروغ دینے کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔