خلیجی ممالک میں غیر ملکی سرمایہ کاری 523 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی

مسقط، 23 نومبر، 2025 (وام) --خلیجی ممالک میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں 2023 کے دوران خلیجی ممالک میں (اندرون خلیج سرمایہ کاری کے بغیر) براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 523.4 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔ یہ خطے میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کا تقریباً 80 فیصد ہے، جو کہ خلیج کے کاروباری ماحول پر عالمی اعتماد کی علامت ہے۔

خلیج تعاون کونسل کے شماریاتی مرکز کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر 2023 میں ہونے والی تمام براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا 5 فیصد حصہ خلیجی ممالک میں آیا۔

اسی دوران خلیجی ممالک کے باہمی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جو 2015 میں 88.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2023 میں 130.3 ارب ڈالر تک جا پہنچی، جو کہ خطے کی مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کا 20 فیصد بنتی ہے۔ اس ترقی کا سہرا انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی کی ترقی اور جدید قانون سازی کو دیا جا رہا ہے، جنہوں نے خلیج کو عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بنا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 2024 میں خلیجی ممالک کی بیرونی تجارتی اشیاء کی تجارت میں 1.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، حالانکہ اس دوران خام تیل کی اوسط قیمت 82.5 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 80.5 ڈالر رہ گئی تھی۔

غیر تیل مصنوعات کی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو کہ برآمدی بنیاد کے تنوع کی پالیسی میں پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ ری-ایکسپورٹ سرگرمیوں میں بھی تسلسل کے ساتھ اضافہ ہوا، جس کا سہرا خلیج کی ترقی یافتہ لاجسٹکس سہولیات کو جاتا ہے۔

2024 میں خلیجی ممالک کی مجموعی سرکاری آمدنی 670.2 ارب ڈالر رہی، جس میں سالانہ 2 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب سرکاری اخراجات 659.3 ارب ڈالر رہے، جو کہ ترقیاتی، انفراسٹرکچر اور سماجی تحفظ کے منصوبوں کو ترجیح دینے کی حکومتی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری آمدن میں غیر تیل ذرائع کا حصہ بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT)، ایکسائز ٹیکس اور ڈیجیٹل مالیاتی اصلاحات کے ذریعے ریونیو کلیکشن میں بہتری ہے۔

ان اقدامات کے نتیجے میں سرکاری قرضوں پر انحصار کم ہوا اور بجٹ پر سود کی ادائیگی کا بوجھ بھی کم ہوا۔ دوسری جانب، 2024 میں خلیجی کیپٹل مارکیٹس نے مثبت کارکردگی دکھائی، جہاں مارکیٹ کی مجموعی مالیت 4.2 کھرب ڈالر تک جا پہنچی، حالانکہ عالمی منڈیوں میں مالیاتی سختیوں اور غیریقینی صورتحال پائی جا رہی تھی۔

اس مثبت کارکردگی میں کاروباری منافع میں اضافہ، کم افراطِ زر اور اہم شعبوں میں ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے تسلسل نے اہم کردار ادا کیا۔