صدر شیخ محمد بن زاید کی زیر صدارت ادنوک بورڈ کا سالانہ اجلاس، 150 ارب ڈالر کے پانچ سالہ منصوبے کی منظوری

ابوظہبی، 24 نومبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی صدارت میں ادنوک بورڈ آف ڈائریکٹرز کا سالانہ اجلاس حبشان کمپلیکس میں منعقد ہوا، جو کمپنی کے اہم زمینی آپریشنز اور گیس پروسیسنگ کا مرکز ہے۔ اجلاس ادنوک گیس آپریشنز کنٹرول روم میں ہوا، جو متحدہ عرب امارات کی توانائی اور صنعت کی ضروریات کا 60 فیصد قدرتی گیس فراہم کرتا ہے۔

اجلاس کے دوران بورڈ نے 2026 سے 2030 تک کے لیے 150 ارب امریکی ڈالر (551 ارب درہم) پر مشتمل سرمایہ کاری منصوبے (CAPEX) کی منظوری دی، جس کا مقصد آپریشنز کو جاری رکھنا، عالمی توانائی کی بڑھتی طلب کو پورا کرنا، اور کمپنی کی توسیع کی حمایت کرنا ہے۔

صدر شیخ محمد بن زاید نے ادنوک کی ملکی اور بین الاقوامی ترقیاتی حکمت عملی پر پیشرفت کو سراہا، اور کمپنی پر زور دیا کہ وہ اپنی مضبوط کارکردگی کو طویل المدتی اسٹریٹجک فائدے میں تبدیل کرے۔

بورڈ نے اعلان کیا کہ متحدہ عرب امارات کے روایتی تیل کے ذخائر 120 ارب بیرل اور قدرتی گیس کے ذخائر 297 ٹریلین کیوبک فٹ تک پہنچ گئے ہیں، جس سے عالمی ذخائر رکھنے والے ممالک میں ملک کی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے۔

ادنوک نے 1.2 ارب بیرل سے زائد نئے تیل و گیس ذخائر کی دریافت کا بھی اعلان کیا، جو کہ دنیا کے سب سے بڑے 3D سیزمک سروے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے ڈیٹا تجزیے کی مدد سے ممکن ہوئی۔

بورڈ نے ادنوک غشہ نامی نئی کمپنی کے قیام کی منظوری دی، جو غشہ رعایت کے آپریشنز کی ذمے دار ہو گی، اور 1.8 ارب کیوبک فٹ گیس اور 150,000 بیرل یومیہ تیل و کنڈنسٹ پیدا کرے گی۔ اس منصوبے میں ہیل اور غشہ پروجیکٹ کی پیشرفت بھی جاری ہے۔

بورڈ نے ابوظہبی کے غیر روایتی وسائل کی ترقی، عالمی شراکت داروں کی توجہ حاصل کرنے اور 160 ٹریلین کیوبک فٹ گیس اور 22 ارب بیرل تیل جیسے غیر روایتی ذخائر کو بروئے کار لانے کی کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔

شیخ محمد بن زاید نے ادنوک کے قومی معیشت میں تنوع کے کردار کو اجاگر کیا، بالخصوص ان-کنٹری ویلیو (ICV) پروگرام اور "میک اٹ ان دی امارات" جیسے اقدامات کے ذریعے نجی شعبے کی ترقی کو فروغ دینے پر زور دیا۔

رپورٹ کے مطابق، ادنوک کے ان-کنٹری ویلیو پروگرام نے 2025 میں 17.7 ارب امریکی ڈالر (65 ارب درہم) قومی معیشت میں شامل کیے، جب کہ 2018 سے اب تک مجموعی معاشی اثر 83.7 ارب ڈالر (307 ارب درہم) تک پہنچ گیا۔ اس پروگرام کے تحت 23,000 اماراتی شہریوں کو روزگار فراہم کیا گیا۔

بورڈ نے آئندہ پانچ سال میں 60 ارب ڈالر (220 ارب درہم) کی سرمایہ کاری ملکی معیشت میں منتقل کرنے کے ہدف کی توثیق کی۔ ادنوک نے 80 ارب درہم کی مالیت کے مقامی مصنوعات کی خریداری معاہدے (offtake agreements) بھی طے کیے ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر، بورڈ نے ادنوک کی سرمایہ کاری بازو XRG کی تعریف کی، جس نے صرف ایک سال میں 151 ارب ڈالر (554 ارب درہم) کا ویلیو حاصل کیا، جو ابوظہبی کی بطور عالمی توانائی سرمایہ کار حیثیت کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

بورڈ نے "ادنوک پروڈکٹیویٹی انڈیکس" کے آغاز کی بھی منظوری دی، جو کہ ایک نیا نظام ہے جو ریئل ٹائم میں کارکردگی کا تجزیہ فراہم کرے گا تاکہ ملازمین کی افادیت اور قدر میں اضافہ کیا جا سکے۔

اجلاس میں ادنوک کے آپریشنز میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، اور خودکار ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کو سراہا گیا، جس میں 'MEERAi' نامی اے آئی بورڈ روم ٹول شامل ہے جو فیصلہ سازی کو بہتر بناتا ہے۔

بورڈ نے ادنوک کے ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ پروگرامز، جانشینی منصوبہ بندی، اور قومی شناخت کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا، جو کہ اماراتی قومی شناخت کی حکمت عملی سے ہم آہنگ ہیں۔

بورڈ کو الرویس انڈسٹریل سٹی میں TA’ZIZ فیز 1 کیمیکل منصوبے میں ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا، جہاں تمام اہم سرمایہ کاری فیصلے مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ منصوبہ سالانہ 4.7 ملین ٹن صنعتی کیمیکلز پیدا کرے گا، جو ادنوک کے 2028 تک 11 ملین ٹن کی پیداوار کے ہدف کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

اجلاس سے قبل، صدر شیخ محمد بن زاید نے حبشان کمپلیکس کا دورہ کیا، جہاں انہیں اسٹریٹجک ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی اور انہوں نے اہم آپریشنز میں مصروف اماراتی ملازمین سے ملاقات کی۔

انہوں نے ادنوک کے ملازمین کی محنت اور عزم کو سراہا اور کہا کہ یو اے ای کے عوام ہی ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، جن کی ترقی اور فلاح و بہبود قیادت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی اور ادنوک کے منیجنگ ڈائریکٹر و گروپ سی ای او، ڈاکٹر سلطان احمد الجابر نے ادنوک کی عالمی توانائی چیلنجز سے نمٹنے، ترقی کے فروغ، اور جدید ٹیکنالوجی و اے آئی کے ذریعے قدر میں اضافے کی کوششوں کو سراہا۔

حبشان کمپلیکس اب بھی متحدہ عرب امارات کی صنعتی ترقی کا مرکزی ستون ہے، جو ایلومینیم، اسٹیل، سیمنٹ اور پیٹروکیمیکل سمیت کئی کلیدی صنعتوں کو قدرتی گیس اور فیڈ اسٹاک فراہم کر رہا ہے۔

اجلاس میں جن اہم شخصیات نے شرکت کی، ان میں نائب صدر، نائب وزیر اعظم اور صدر کے دفتر کے چیئرمین عزت مآب شیخ منصور بن زاید النہیان شامل تھے۔ ان کے ہمراہ ابوظہبی کے ولی عہد اور ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین عزت مآب شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان، الظفرہ ریجن میں حکمران کے نمائندے عزت مآب شیخ حمدان بن زاید النہیان، اور العین ریجن میں حکمران کے نمائندے عزت مآب شیخ ہزاع بن زاید النہیان بھی شریک تھے۔ وزارتی سطح پر اجلاس میں وزیر توانائی و انفراسٹرکچر سہیل محمد المزروعی، وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی اور ادنوک کے منیجنگ ڈائریکٹر و گروپ سی ای او ڈاکٹر سلطان احمد الجابر، اور صدر دفتر برائے اسٹریٹجک امور کے چیئرمین ڈاکٹر احمد مبارک المزروعی نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ وزیر صحت احمد السیغ، محکمہ مالیات کے چیئرمین جاسم الزعابی، محکمہ توانائی ابوظہبی کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ الجروان، اور ایگزیکٹو افیئرز اتھارٹی کے چیئرمین و مبادلہ کے منیجنگ ڈائریکٹر و گروپ سی ای او خالدون خلیفہ المبارک بھی اجلاس میں موجود تھے۔