دبئی اور ملائیشیا کے اقتصادی تعلقات میں تیزی، 2025 کے ابتدائی 9 ماہ میں 73 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن

کوالا لمپور، 26 نومبر 2025 (وام) --دبئی اور ملائیشیا کے درمیان اقتصادی روابط میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ 2025 کے پہلے نو مہینوں میں 73 نئی ملائیشین کمپنیوں نے دبئی چیمبر آف کامرس میں رجسٹریشن حاصل کی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور تعاون کا ثبوت ملتا ہے۔

یہ بات دبئی چیمبرز کے ایگزیکٹو نائب صدر برائے بین الاقوامی تعلقات، سالم الشامسی نے ملائیشیا کے تجارتی دورے کے دوران وام کو ایک انٹرویو میں بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ستمبر کے اختتام تک چیمبر میں رجسٹرڈ ملائیشین کمپنیوں کی کل تعداد 318 ہو گئی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملائیشین کاروباری برادری دبئی کو علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کا مرکزی مرکز سمجھتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نئی کمپنیوں کا زیادہ تر تعلق مالیاتی خدمات، سافٹ ویئر و آئی ٹی، اور خوراک و مشروبات کے شعبوں سے ہے، جب کہ کاروباری خدمات، صارفین کی مصنوعات اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے بھی نمایاں ہیں۔

ملائیشیا کو جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے زیادہ اختراعی معیشتوں میں شمار کرتے ہوئے الشامسی نے کہا کہ وہاں کا مضبوط صنعتی ڈھانچہ، خدمات کا وسیع شعبہ اور اعلیٰ معیار کی مینوفیکچرنگ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کشش رکھتی ہے۔

ان کے مطابق 2024 میں دبئی اور ملائیشیا کے درمیان نان آئل تجارتی حجم 17.8 ارب درہم سے تجاوز کر گیا، جو 20 فیصد سالانہ اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دبئی میں کاروبار کے لیے موزوں ماحول، جدید لاجسٹکس، اور واضح ضوابط موجود ہیں، جو عالمی منڈیوں سے مؤثر رابطے فراہم کرتے ہیں۔

الشامسی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ٹرانسپورٹ، اسٹوریج، حلال فوڈ، رئیل اسٹیٹ، مہمان داری، کاروباری خدمات، اور صحت کے شعبوں میں اماراتی سرمایہ کاروں کے لیے ملائیشیا میں بڑی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔

2020 سے 2024 کے درمیان دبئی نے ملائیشیا سے 286.6 ملین درہم (78.1 ملین ڈالر) مالیت کے 23 غیر ملکی سرمایہ کاری منصوبے (FDIs) حاصل کیے، جب کہ صرف 2025 کی پہلی ششماہی میں 135 ملین ڈالر کی ملائیشین سرمایہ کاری دبئی میں ہوئی۔

2024 میں دبئی کی ملائیشیا سے درآمدات 10.01 ارب درہم رہیں، جس میں 13.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ برآمدات میں 29.4 فیصد سالانہ اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 7.7 ارب درہم تک پہنچ گئیں۔

الشامسی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والا جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سیپا) دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ میں زبردست بہتری کا باعث بن رہا ہے۔