ابو ظہبی، 26 نومبر 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کو قاہرہ میں عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ میں منعقدہ عرب وزرائے اطلاعات کونسل کے 55ویں اجلاس کے دوران ایگزیکٹو آفس کا رکن منتخب کر لیا گیا۔ یہ انتخاب عرب میڈیا تعاون کو فروغ دینے، مشترکہ پالیسیوں کی تشکیل اور مستقبل پر مبنی میڈیا اقدامات میں امارات کے قائدانہ کردار کا ثبوت ہے۔
اماراتی وفد کی قیادت عبداللہ بن محمد بن بُطی الحامد نے کی، جو نیشنل میڈیا آفس اور یو اے ای میڈیا کونسل کے چیئرمین ہیں۔ انہوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امارات کی یہ کامیابی عرب میڈیا میں اس کے فعال کردار اور رکن ممالک کے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امارات خطے میں ذمہ دار، اختراعی اور جدید میڈیا کی ترقی کے لیے قانون سازی، پیشہ ورانہ مہارت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال پر مسلسل کام کر رہا ہے۔
الحامد نے اپنی تقریر میں اماراتی قیادت کے پیغامات بھی پہنچائے اور عرب وزرائے اطلاعات کی کاوشوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا عرب میڈیا صرف خبر رسانی تک محدود نہیں، بلکہ ترقی، استحکام اور عوامی شعور بیداری کا موثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے عرب میڈیا کو روایات، اقدار اور حقیقت و امید کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے والا شعبہ قرار دیا۔
انہوں نے عرب میڈیا ضابطہ اخلاق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ پیشہ ورانہ دیانت، سچائی، انسانی وقار اور اتحاد کے اصولوں کو فروغ دینے والا فریم ورک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضابطہ اخلاق میں حالیہ ترامیم اس بات کو تقویت دیتی ہیں کہ عرب میڈیا کو سماجی ہم آہنگی اور استحکام کا ذریعہ بننا چاہیے، نہ کہ خلفشار یا تقسیم کا۔
الحامد نے ڈیجیٹل میڈیا کی موجودہ حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں پیشہ ورانہ اور اخلاقی بنیادوں پر خطے کے ڈیجیٹل اسپیس سے تعلق کی نئی تعریف طے کرنا ہوگی، کیونکہ یہ اب رائے عامہ کی سب سے مؤثر جگہ بن چکی ہے جہاں جغرافیائی حدود غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔ انہوں نے اظہار رائے کی آزادی اور مواد کی ذمہ داری کے درمیان توازن، اور عرب میڈیا کی ساکھ کی بحالی کے لیے علم پر مبنی پلیٹ فارمز کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے عرب الیکٹرانک میڈیا کمیٹی کو مشترکہ پالیسی سازی اور مستقبل کے خطرات کی پیش بینی کے لیے بہترین پلیٹ فارم قرار دیا اور کہا کہ ہمیں ردعمل کی بجائے پیشگی تیاری کے اصول پر مشتمل تعاون کو اپنانا ہو گا تاکہ ڈیجیٹل چیلنجز کا دیرپا حل تلاش کیا جا سکے۔
انہوں نے انتہا پسندی کے خلاف عرب میڈیا کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندی کا مقابلہ دراصل شعور کی جنگ ہے، کیونکہ شدت پسند عناصر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو منفی بیانیہ پھیلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب میڈیا کو ان کے جھوٹے دعووں کو بے نقاب کرنا ہوگا اور انسانی و دینی اقدار کو فروغ دے کر انتہا پسندی کے خلاف مؤثر بیانیہ تشکیل دینا ہوگا۔
الحامد نے اس بات پر زور دیا کہ اس اہم کام کے لیے متحدہ پیغام، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ضرورت ہے تاکہ شدت پسند مہمات کو ابتدا ہی میں روکا جا سکے۔ انہوں نے میڈیا پروفیشنلز کی صلاحیتوں میں اضافے کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کا صحافی صرف رپورٹر نہیں بلکہ محقق، تجزیہ کار، محقق اور مواد تخلیق کرنے والا فرد بھی ہے۔ اس مقصد کے لیے عرب سطح پر تربیتی پروگرام، ادارہ جاتی شراکت داری اور میرٹ پر مبنی معیار اپنانا ناگزیر ہے۔
مصنوعی ذہانت کے میڈیا پر اثرات پر بات کرتے ہوئے الحامد نے کہا کہ ٹیکنالوجی کوئی خطرہ نہیں بلکہ اداروں کے ارتقاء کا امتحان ہے۔ مشینیں کارکردگی بڑھا سکتی ہیں لیکن تخلیق اور معنی کا اصل ذریعہ انسان ہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں شفافیت، رازداری اور غلط استعمال سے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تاکہ میڈیا انسانی اقدار سے محروم محض الگورتھم نہ بن جائے۔
آخر میں الحامد نے تمام عرب وزرائے اطلاعات کو دعوت دی کہ وہ ابو ظہبی میں دسمبر میں منعقد ہونے والی عالمی بریج سمٹ میں عرب میڈیا کی ترقی کے لیے اپنی آرا اور تجربات کا تبادلہ کریں۔
اماراتی وفد میں سیکرٹری جنرل، یو اے ای میڈیا کونسل محمد سعید الشحی، اماراتی سفیر برائے مصر و مستقل نمائندہ برائے عرب لیگ حماد عبید الزعابی، اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے میڈیا اسٹریٹجی و پالیسی مثیٰ ماجد السویدی بھی شامل تھے۔
عرب وزرائے اطلاعات کونسل کے 55ویں اجلاس میں فلسطینی کاز، عرب میڈیا ضابطہ اخلاق، عالمی سطح پر عرب میڈیا کی حکمت عملی، الیکٹرانک اور ماحولیاتی میڈیا، پروفیشنل کوالٹی ڈیولپمنٹ، اسکولوں میں میڈیا تعلیم، بین الاقوامی میڈیا کمپنیوں سے روابط اور مصنوعی ذہانت و جدید ٹیکنالوجی کے انضمام جیسے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔