یاس کلینک میں نازک حالت میں لائی گئی پاکستانی بچی کا کامیاب بون میرو ٹرانسپلانٹ

ابوظبی، 5 دسمبر 2025 (وام)--ابوظہبی کے یاس کلینک میں ڈاکٹروں نے دو ماہ کی ایک پاکستانی بچی کی جان بچا کر اُسے نئی زندگی دی ہے، جسے سنگین نوعیت کی کمزور قوتِ مدافعت کی بیماری لاحق تھی۔ بچی کی حالت اس قدر بگڑ چکی تھی کہ وہ معمولی انفیکشن سے بھی نہ لڑ پاتی اور اس کی زندگی خطرے میں تھی۔

جب بچی کو ابوظہبی کے یاس کلینک لایا گیا، تو وہ بیک وقت تین خطرناک انفیکشنز سے لڑ رہی تھی۔ وہ شدید وینٹی لیٹر سپورٹ پر تھی، خون کے دباؤ کو قائم رکھنے کے لیے مسلسل ادویات دی جا رہی تھیں، اور اُس کے کئی اعضا دباؤ میں آ چکے تھے۔

اسی نازک مرحلے پر ایک غیر متوقع اُمید کی کرن اُس وقت نظر آئی، جب اس کے والد کا مکمل HLA میچ یعنی مکمل خون مطابقت ثابت ہوئی، جو بون میرو ٹرانسپلانٹ کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ تاہم بچی کی جسمانی حالت اس قدر نازک تھی کہ وہ کیموتھراپی یا ٹرانسپلانٹ سے قبل مطلوبہ تیاری کے کسی بھی مرحلے سے نہیں گزر سکتی تھی۔

اس سنگین صورتِ حال میں ڈاکٹروں کے پاس صرف ایک راستہ بچا: بغیر کسی روایتی تیاری یا کیموتھراپی کے، فوری طور پر اس کے والد کے صحت مند اسٹیم سیلز استعمال کرتے ہوئے براہِ راست بون میرو ٹرانسپلانٹ کیا جائے۔ یہ ایک انتہائی نازک اور غیر روایتی عمل تھا، مگر بچی کی زندگی بچانے کا یہی واحد موقع تھا۔

آج، صرف دو ماہ بعد، بچی کی صحت یابی کو ایک معجزہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے وینٹی لیٹر سے مکمل طور پر آزاد ہے اور خود سانس لے رہی ہے۔ اس کے جسم سے تینوں وائرسز مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ وہ بہتر طریقے سے خوراک لے رہی ہے، دن بہ دن صحت مند ہوتی جا رہی ہے، اور اُمید ہے کہ جلد ہی اُسے گھر بھیج دیا جائے گا۔