ابوظبی، 9 دسمبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کی حکومت نے کمرشل کمپنیوں سے متعلق وفاقی قانون میں بعض ترامیم جاری کی ہیں، جن کا مقصد کاروباری ماحول میں مسابقت بہتر بنانا اور عالمی معاشی تبدیلیوں کے مطابق قوانین کو اپ ڈیٹ کرنا ہے۔
ترمیم کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کمپنیوں کے قانونی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور سرمایہ کاروں سمیت دیگر فریقین کو مزید اختیارات اور لچکدار انتخاب فراہم کیے جائیں، تاکہ ملک کی بطور سرمایہ کاری مرکز کشش میں اضافہ ہو۔
نئی ترامیم کے تحت غیر منافع بخش کمپنی کا تصور متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نوعیت کی کمپنی اپنی آمدنی کو مالکوں میں تقسیم کرنے کے بجائے اپنے مقاصد کے حصول میں دوبارہ استعمال کرے گی۔ اس کا مقصد سماجی اور ترقیاتی شعبوں کے لیے ایک واضح اور شفاف فریم ورک مہیا کرنا ہے۔
ترمیمی قانون کے مطابق کمپنیوں کے لیے سرمایہ کے ڈھانچے میں متعدد اقسام کے حصص رکھنے کی اجازت ہوگی، جن میں ووٹنگ کے حقوق، منافع کی تقسیم، ترجیحی ادائیگی یا تحلیل کے وقت ترجیح جیسے امور شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ تبدیلی کارپوریٹ گورننس کو مضبوط بنانے کی سمت اہم قدم ہے۔
قانون میں نجی شراکت داری کی کمپنیوں کو یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ وہ قومی مالیاتی مارکیٹ میں پرائیویٹ سبسکرپشن کے ذریعے سیکیورٹیز جاری کر سکیں، بشرطیکہ متعلقہ حکام کی منظوری حاصل ہو۔ اس سے کمپنیوں کو عوامی شراکت داری میں تبدیل ہوئے بغیر اضافی مالی وسائل تک رسائی ملے گی۔
نئے ضوابط میں کمپنیوں کی رجسٹریشن کو ایک شہر سے دوسرے شہر یا فری زون میں منتقل کرنے کا طریقہ کار بھی واضح کر دیا گیا ہے، جس سے کمپنی کا قانونی تشخص برقرار رہے گا۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری سرگرمیوں کی آزادانہ نقل و حرکت، تجارتی تنازعات میں کمی، اور اقلیتی حصص داروں کے حقوق کا تحفظ ہے۔
ترمیم میں حصص اور شیئرز کے انتظام سے متعلق جدید معاہداتی طریقے بھی شامل کیے گئے ہیں، جیسے ٹیگ الونگ اور ڈرَیگ الونگ ٹرانزیکشنز، جبکہ کسی شریک یا حصص دار کی وفات کی صورت میں شیئرز کے انتقال کا طریقہ بھی واضح کیا گیا ہے، تاکہ کمپنی کا تسلسل برقرار رہے۔
اسی طرح، قانون میں غیر نقد سرمایہ کاری کی قیمت جانچنے کے اصول اور آزادانہ ماہرین کی منظوری کے لیے واضح معیارات طے کیے گئے ہیں، جن کا مقصد شفافیت اور شراکت داروں و سرمایہ کاروں کے حقوق کا تحفظ ہے۔
یہ ترمیمی قانون متحدہ عرب امارات کی جانب سے کاروباری قوانین کو جدید بنانے اور سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط اور لچکدار قانونی ماحول فراہم کرنے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔