ابوظہبی، 10 دسمبر 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات نے یومِ انسانی حقوق کے موقع پر ملک میں شہری، سیاسی، معاشی، ثقافتی اور سماجی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے حاصل کی گئی نمایاں کامیابیوں کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ انسانی وقار، انصاف اور رواداری پر مبنی معاشرہ تشکیل دینا امارات کی ترجیحات میں شامل ہے۔
امارات مسلسل اپنے قانون سازی کے ڈھانچے اور انتظامی نظام کو مضبوط بنا رہا ہے، جنہیں قومی منصوبوں اور ترقیاتی حکمتِ عملیوں کی مدد حاصل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد انسانی حقوق کا تحفظ، باوقار معیارِ زندگی کو یقینی بنانا اور آئین و قانون کے مطابق ہر فرد کے حقوق کی نگہبانی ہے۔
متحدہ عرب امارات تین بار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن رہ چکا ہے اور اب 2028 تا 2030 کی مدت کے لیے اپنی اُمیدواری کا اعلان کر چکا ہے، جو کونسل کے کردار اور انسانی حقوق کے عالمی فروغ پر امارات کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
امارات نے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے لیے جامع سطح پر قومی پالیسیاں اور حکمتِ عملیاں مرتب کی ہیں۔ اس سلسلے میں محنت کشوں کے حقوق کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے گئے ہیں جن میں لیبر انٹرٹائٹلمنٹ انشورنس اسکیم، بے روزگاری انشورنس اسکیم، سیونگز اسکیم، ویج پروٹیکشن سسٹم اور ہیلتھ انشورنس نظام نمایاں ہیں۔
سال 2024 کے آغاز سے لیبر قوانین میں اہم ترامیم نافذ کی گئی ہیں جن کا مقصد عدلیہ میں جانے والی مزدوری شکایات کے فوری اور مؤثر حل کو یقینی بنانا ہے۔ گھریلو ملازمین کے حقوق کے لیے بھی وفاقی فرمان قانون نمبر 9 سال 2022 جیسے قوانین کے ذریعے بہتر تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
امارات خطے کا پہلا ملک ہے جس نے دوپہر کے اوقات میں سخت دھوپ میں کام کرانے پر پابندی (Midday Work Ban) نافذ کی، جس کے تحت ہر سال 15 جون سے 15 ستمبر تک دوپہر 12:30 سے 3 بجے تک کھلے ماحول میں محنت کشوں سے کام نہیں لیا جا سکتا۔
خواتین اور بچوں کے حقوق کا تحفظ امارات کی قومی ترجیح ہے۔ اس سلسلے میں صحت، تعلیم، تفریح اور نشوونما سمیت خاندانی بہبود کے تمام پہلوؤں کو کور کرنے والی پالیسیاں مرتب کی گئی ہیں تاکہ خاندانوں کو بہتر مستقبل اور باوقار زندگی کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
مزید برآں، وزارتِ فیملی کی تشکیل کی گئی ہے جو خاندانوں اور افراد کو تشدد سے بچانے، اور بچوں کے سماجی، نفسیاتی، تعلیمی اور طبی حقوق سے متعلق پالیسیوں اور قوانین کی تیاری و عمل درآمد کی ذمہ دار ہے۔
اسی طرح خواتین کی صحت کے فروغ کے لیے قومی پالیسی جاری کی گئی ہے، جبکہ ایک حکومتی فیصلے کے مطابق ملک کی نجی جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں کو اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں موجودہ مدت کی تکمیل کے بعد کم از کم ایک خاتون رکن کے لیے نشست مختص کرنا لازم ہوگا۔