سابق صدر سینیگال: بریج سمٹ 2025 ٹیکنالوجی کے اخلاقی مستقبل کی تشکیل کے لیے اہم قدم ہے

ابوظہبی، 10 دسمبر 2025 (وام)--سینیگال کے سابق صدر میکی سال کے مطابق بریج سمٹ 2025 ایک ایسا مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو رہا ہے جو حکومتوں، غیر سرکاری تنظیموں، سیاسی و فکری قیادت اور نجی شعبے کو یکجا کر کے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مستقبل کے لیے ایک مشترکہ اخلاقی خاکہ مرتب کرنے کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔

انہوں نے امارات نیوز ایجنسی (وام) سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ یہ اجلاس ٹیکنالوجی کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے میں رہنمائی فراہم کرنے کے لیے ایک منفرد اور جامع کوشش ہے، جہاں مختلف النوع اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کر کے نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ضابطہ کار پر غور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ، "یہ پہلا موقع ہے کہ ہم ایک ایسے فورم میں شریک ہیں جہاں ریاستی ادارے، غیر سرکاری تنظیمیں، سیاسی قیادت اور نجی شعبے کے نمائندے ایک ہی میز پر موجود ہیں، تاکہ اس ٹیکنالوجی پلیٹ فارم کی نوعیت اور دائرۂ کار پر سنجیدہ مکالمہ کیا جا سکے جو ہم مل کر تشکیل دے رہے ہیں،"

سابق صدر نے مزید کہا کہ بریج کا عنوان بذاتِ خود اجلاس کے مقصد کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ نام اپنی معنویت خود بیان کرتا ہے — لوگوں کو باہم جوڑنے، بات چیت کے ذریعے مفاہمت پیدا کرنے اور مل کر آگے بڑھنے کی دعوت دیتا ہے۔

میکی سال نے مستقبل کے حوالے سے اُمید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، "میری خواہش ہے کہ آئندہ چند ماہ میں ہم کوئی ٹھوس اور بامعنی پیش رفت حاصل کر سکیں، جس کے ذریعے توقعات میں ہم آہنگی پیدا ہو، اور اخلاقیات، ذمہ داری اور باہمی اعتماد جیسے اصولوں پر مبنی ایک مضبوط پل قائم ہو سکے۔"

انہوں نے ڈیجیٹل دنیا میں ثقافتی و تمدنی اقدار کے تحفظ کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ، "میرے نزدیک سب سے اہم سبق یہ ہے کہ ڈیجیٹل مواد کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باوجود ہمیں اپنی تہذیبی شناخت اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنا ہوگا، کیونکہ یہی ہماری اصل پہچان ہے۔"

انہوں نے اظہارِ رائے کی آزادی، تخلیقی سرگرمیوں اور خیالات کے آزادانہ تبادلے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سب کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے تحفظ کی ذمہ داری بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے واضح کیاکہ، "یقیناً ہمیں تخلیقی اظہار اور معلومات کے پھیلاؤ کی آزادی کا احترام کرنا ہے، لیکن ساتھ ہی ہمیں اپنے بچوں کو غیر محفوظ ڈیجیٹل ماحول سے بچانے کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔"

انہوں نے آسٹریلیا کی اس حالیہ پالیسی کو سراہا جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں پر بعض ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ، "یہ ایک دانشمندانہ مثال ہے، جس سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے۔ دنیا بھر میں اسی نوعیت کی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔"

انہوں نے نوجوانوں کے لیے ذاتی فہم و بصیرت اور میڈیا لٹریسی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ، "ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی کے لیے نوجوانوں میں فیصلہ سازی کی صلاحیت کا ہونا لازمی ہے۔ جب تک انہیں یہ سمجھ نہیں ہو گی کہ کیا درست ہے اور کیا گمراہ کن، تب تک وہ ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ نہیں رہ سکتے۔"

اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے زور دیا کہ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے مواد کے معیار اور اس کے سماجی اثرات پر توجہ مرکوز کی جائے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ صارفین، بالخصوص نوجوان، اس مواد کو سمجھنے اور جانچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں جو وہ دیکھ رہے ہیں۔ میرے نزدیک یہی آج کے سب سے اہم مباحث میں سے ایک ہے۔"