نوجوانوں کو محفوظ ڈیجیٹل ماحول کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے: یونیسکو

ابوظبی، 10 دسمبر، 2025 (وام)--ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں، جب نئی نسل آن لائن دنیا میں تخلیقی اظہار اور کہانی گوئی کی جانب بڑھ رہی ہے، ایسے محفوظ اور بااختیار ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی فراہمی ناگزیر ہو چکی ہے۔ یہ بات بریج سمٹ 2025 کے دوران منعقدہ سیشن "محفوظ ڈیجیٹل اسپیسز اور نوجوانوں کا عالمی میڈیا میں کردار" میں کہی گئی۔

یونیسکو پیرس کی میڈیا و انفارمیشن لٹریسی یونٹ کی سربراہ، ایڈلین ہولین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ کے اپنے عالمی مینڈیٹ کے تحت معلومات کی صحت مندی انفارمیشن انٹیگریٹی کو فروغ دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو آن لائن دنیا میں جن سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں سب سے نمایاں ہراسانی، نفرت انگیز مواد اور صنفی امتیاز ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ، "ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مردوں کے مقابلے میں خواتین تخلیق کاروں کی تعداد کم ہے، جو براہِ راست ٹیکنالوجی سے منسلک صنفی تشدد سے جڑا مسئلہ ہے۔ ہر تین میں سے ایک خاتون آن لائن تشدد یا ہراسانی کا شکار بنتی ہے۔"

غلط معلومات اور گمراہ کن بیانیےکا پھیلاؤ نوجوانوں کے لیے ایک اور بڑا مسئلہ ہے، جس سے ان کے اعتماد اور فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ ہولین نے بتایا کہ ‘Behind the Screens’ کے عنوان سے 50 سے زائد ممالک میں کیے گئے ایک عالمی سروے میں انکشاف ہوا کہ 62 فیصد نوجوان معلومات کو آن لائن شیئر کرنے سے پہلے اس کی کوئی تصدیق نہیں کرتے۔

انہوں نے اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے میڈیا اور معلوماتی تعلیم کو کلیدی حل قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو معلومات کے ماحولیاتی نظام کو سمجھانے کی فوری ضرورت ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تربیت کے اس عمل میں والدین کی کمی ایک "غائب کڑی" ہے، کیونکہ وہ خود سوشل میڈیا کے ماہر صارفین نہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کی آن لائن راہنمائی کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

ایڈلین ہولین نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچوں کی آن لائن نگرانی کے بجائے خود احتسابی سے آغاز کریں۔ انہوں نے کہاکہ، "اپنے سوشل میڈیا رویے پر نظر ڈالیں، بچوں سے بات کریں، انہیں سنیں اور جانیں کہ وہ کس قسم کا مواد دیکھ رہے ہیں۔ ماضی میں اہل خانہ ایک ساتھ خبریں دیکھتے تھے، مگر اب بچے یہ سب کچھ تنہا کر رہے ہیں۔"

یہ سیشن بریج سمٹ 2025 کے 300 سے زائد موضوعاتی پروگرامز میں سے ایک تھا، جو نوجوانوں، ٹیکنالوجی، اور عالمی میڈیا کے بدلتے رجحانات پر روشنی ڈالنے کے لیے منعقد کیا گیا۔