ابوظہبی، 10 دسمبر، 2025 (وام)--ابوظہبی میں ہونے والی عالمی میڈیا کانفرنس بریج سمٹ 2025 کے دوران، متحدہ عرب امارات کی فیڈرل نیشنل کونسل کی دفاع، داخلہ اور خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر علی النعیمی نے کہا کہ دنیا کو صرف امارات کی بلند و بالا عمارات کو دیکھنے کے بجائے اس کی قوم، اقدار اور اصولوں کے آئینے میں دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ یو اے ای ایک ایسا انسانی ماڈل پیش کرتا ہے جو دوسروں کے لیے مشعل راہ بن سکتا ہے۔
ڈاکٹر النعیمی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی کامیابی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک ایسا مواد ہے جسے دنیا کو دیکھنا، جاننا اور سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ، "ہم ایک چھوٹا اور ابھرتا ملک ہیں، لیکن ہم نے انسانیت کے لیے ایک راہ قائم کی ہے۔"
انہوں نے کہا کہ ان کی نسل نے سادہ زندگی گزاری، لیکن اس انقلاب کی بنیاد مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کی قیادت اور ان کے اس فیصلے پر رکھی گئی کہ ترقی کا پہلا قدم انسانوں میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کس طرح شیخ زاید نے لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے خاندانوں کو مالی مدد دی، جس کے نتیجے میں آج اماراتی خواتین معاشرے اور حکومت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
ڈاکٹر النعیمی نے کہاکہ، "خواتین کو بااختیار بنانے کا سفر شیخ زاید نے شروع کیا، آج ہماری کابینہ میں نو خواتین وزیر ہیں اور پارلیمان کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے، اور یہ کسی تشہیر کے لیے نہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔"
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امارات کی اصل طاقت اس کی بقائے باہمی کی پالیسی ہے، جو شیخ زاید کے اس یقین پر مبنی ہے کہ ہر قوم اور کمیونٹی قوم سازی میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے کہا: "ہم امارات میں ہر شخص کو خوش آمدید کہتے ہیں، ہم ان سے خود کو بدلنے کا مطالبہ نہیں کرتے، بلکہ انہیں ویسا ہی قبول کرتے ہیں جیسے وہ ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ یو اے ای میں 200 سے زائد قومیتوں کے افراد پرامن زندگی گزار رہے ہیں، اور یہ تنوع ہی ملک کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ "یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے لوگ یہاں آ کر سکون محسوس کرتے ہیں، کیونکہ وہ یہاں قابلِ قبول اور قابلِ عزت سمجھے جاتے ہیں۔"
ڈاکٹر النعیمی نے بتایا کہ یہ سوچ امارات کے تعلیمی نظام، مذہبی بیانیے، قوانین اور قیادت کے براہِ راست طرزِ عمل میں شامل ہے۔ "یہ احترام ہمارے معاشرے کے ڈی این اے میں شامل ہو چکا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ یہی سوچ متحدہ عرب امارات کی عالمی پالیسیوں کا مرکز ہے۔ "ہم دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مذہب، نسل یا قومیت سے بالاتر ہو کر انسانیت کے طور پر ہمیں سیکھنا ہوگا کہ ہم امن و ہم آہنگی کے ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں۔"
ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا کو سب سے بڑا خطرہ ان گروہوں سے ہے جو مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے نفرت انگیز بیانیے کو انسانیت کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ قرار دیا۔
افریقہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر النعیمی نے کہا کہ 2050 تک دنیا کے 50 فیصد نوجوان افریقی ہوں گے، اسی لیے یو اے ای اس براعظم میں سب سے بڑا سرمایہ کار اور انسانی امداد فراہم کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ "ہم افریقہ سے مقابلہ کرنے نہیں جاتے، ہم وہاں اسکول، اسپتال، انفراسٹرکچر اور نوکریاں دینے جاتے ہیں، کیونکہ وہ بھی انسان ہیں اور توجہ کے مستحق ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ افریقہ کی ترقی ایک اخلاقی اور تزویراتی ذمہ داری ہے۔
کانٹینٹ کریئیٹرز سے مخاطب ہوتے ہوئے ڈاکٹر النعیمی نے کہا، "دنیا کو امن کے علمبرداروں کی ضرورت ہے۔ خبروں میں اکثر سنسنی کو ترجیح دی جاتی ہے، لیکن ہمیں ایسے مواد کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کے دل و دماغ جیتے اور امن کو فروغ دے۔"
آخر میں انہوں نے کہاکہ، "ہمیں سیکھنا ہوگا کہ ہم ایک ساتھ پرامن زندگی کیسے گزار سکتے ہیں، ایک دوسرے کو کیسے قبول کر سکتے ہیں۔ یہی امارات کی میراث اور شیخ زاید کا ورثہ ہے۔"