ابوظہبی، 11 دسمبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، نائب وزیر اعظم اور صدارتی دیوان کے چیئرمین عزت مآب شیخ منصور بن زاید النہیان نے ایک قرارداد جاری کرتے ہوئے "یو اے ای یونین نیرٹیو" کے لیے قومی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
یہ کمیٹی متحدہ عرب امارات کے قیام سے متعلق سرکاری تاریخی بیانیے کی واحد منظور شدہ اتھارٹی ہوگی، جسے باضابطہ طور پر تمام متعلقہ دستاویزی امور کی نگرانی اور ترتیب کا اختیار حاصل ہوگا۔
کمیٹی کا بنیادی مقصد متحدہ عرب امارات کے قیام سے پہلے اور دوران پیش آنے والے اہم واقعات کی صحیح ترتیب کے ساتھ دستاویزی تیاری ہے۔ اس میں سرکاری "یونین نیرٹیو" دستاویز کی تیاری، اس کی منظوری، اور قومی، میڈیا، اور تعلیمی مواد کو بیانیے کے اصولوں سے ہم آہنگ کرنا شامل ہے۔
یہ بیانیہ مرحوم بانی شیخ زاید بن سلطان النہیان کے مرکزی کردار کو اجاگر کرے گا، جنہوں نے ریاست کی بنیاد رکھی اور اتحاد کو مستحکم کیا۔
اس قرارداد کے مطابق، کمیٹی کی سربراہی امارات کے صدر کے مشیر احمد جمعہ الزعابی کریں گے۔ کمیٹی میں مختلف اہم قومی اداروں کے نمائندگان شامل ہوں گے جن میں صدارتی پروٹوکول اور اسٹریٹجک نیرٹیو اتھارٹی، نیشنل میڈیا آفس، ایجوکیشن، ہیومن ڈویلپمنٹ اور کمیونٹی کونسل، بانی کے دفتر، نیشنل لائبریری و آرکائیوز، ابوظیبی ایگزیکٹو آفس اور دیگر اماراتی ایگزیکٹو کونسلز کے جنرل سیکرٹریٹس شامل ہیں۔
کمیٹی تمام قومی مہمات، مواد، علامتوں، اور نصاب کو "یونین نیرٹیو" سے ہم آہنگ بنانے کی ذمہ دار ہوگی۔ کوئی بھی میڈیا، تعلیمی یا اشاعتی مواد جو ریاستی اتحاد یا اس کی علامتوں سے متعلق ہو، اسے پیشگی منظوری کے لیے کمیٹی کو پیش کرنا لازم ہوگا۔
اس کے علاوہ، کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ متحدہ عرب امارات کے قیام سے متعلق بیانیہ تاریخی تسلسل کے ساتھ درست انداز میں تیار اور منظور کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے وہ تمام اصطلاحات اور تعبیرات کو، جو پہلے سے منظور شدہ ہوں، نافذ کرے گی تاکہ بیانیے میں یکسانیت برقرار رہے۔ مزید یہ کہ کمیٹی، وفاقی و مقامی حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے، تمام متعلقہ مواد کا جائزہ لے گی تاکہ یہ معلومات مصدقہ، ہم آہنگ اور سرکاری اصولوں کے مطابق ہوں۔
کمیٹی ضرورت کے تحت ماہرین، محققین، اور ورکنگ گروپس بھی تشکیل دے سکتی ہے، تاہم ان افراد کو کمیٹی کے فیصلوں میں رائے دہی کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔
مزید برآں، کمیٹی کو مستقبل میں صدارتی عدالت کے چیئرمین کی جانب سے اضافی ذمہ داریاں بھی سونپی جا سکتی ہیں۔
آخر میں قرارداد میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس فیصلے سے متصادم کوئی بھی سابقہ حکم یا شق منسوخ تصور کی جائے گی۔