دبئی میں پائیدار حیاتیاتی توانائی کے عالمی فورم کا انعقاد،

دبئی، 12 دسمبر, 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات میں جمعہ کے روز "سسٹین ایبل بایو انٹرنیشنل فورم" کا انعقاد کیا گیا، جس کا تھیم "متحدہ عرب امارات سے... ایک سرسبز دنیا کی جانب" تھا۔ فورم میں پائیدار حیاتیاتی توانائی (بایو انرجی) کے مستقبل اور کم کاربن سرکولر معیشت میں اس کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

یہ فورم وزارت توانائی و بنیادی ڈھانچہ کے زیرِ سرپرستی، ایسوسی ایشن آف عرب ونیورسٹیز اور یوسف ایوارڈ برائے نوجوان سائنسدان کے باہمی اشتراک سے منعقد ہوا۔ اس میں دنیا بھر سے ماہرین، پالیسی ساز، سائنسدان اور صنعتکار شریک ہوئے۔

وزارت توانائی و بنیادی ڈھانچہ میں اسسٹنٹ انڈر سیکریٹری برائے پیٹرولیم، گیس، اور معدنی وسائل کے شعبے انجینئر سیف غباش نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "متحدہ عرب امارات نے پائیداری کو قومی ایجنڈے کا مرکزی ستون بنا لیا ہے، اور 2050 تک ماحولیاتی غیر جانبداری (Net Zero Emissions) کے ہدف کے لیے اہم اقدامات جاری ہیں، جن میں اخراج میں کمی، صاف توانائی کی توسیع اور روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سستے اور پائیدار ایوی ایشن فیول (SAF) اور کم کاربن ایندھن مستقبل کے توانائی مکس میں اہم کردار ادا کریں گے۔ امارات علاقے کا پہلا ملک ہے جس نے SAF پر پروازیں آزمائیں، جو قومی کمپنیوں کے تعاون سے ممکن ہوا۔

سیف غباش نے مزید کہا کہ اماراتی انرجی اسٹریٹیجی 2050، سرکولر اکانومی پروگرامز اور ڈی کاربنائزیشن منصوبے اس منتقلی کو تیز کر رہے ہیں۔ انہوں نے جامعات اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کو تکنیکی جدت کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

سیکریٹری جنرل، ایسوسی ایشن آف عرب یونیورسٹیز پروفیسر ڈاکٹر عمر عزت سلامہ کے مطابق یہ فورم عرب صلاحیتوں میں سرمایہ کاری، نوجوان سائنسدانوں کی حوصلہ افزائی، اور سائنسی تحقیق کو فروغ دینے کے لیے اہم سنگ میل ہے۔

بانی یوسف ایوارڈ یوسف بن سعید لوطاہ نے کہاکہ اس ایوارڈ کا مقصد تعلیمی اور صنعتی اداروں میں انضمام کو فروغ دینا ہے تاکہ گرین کیمسٹری، قابل تجدید توانائی، اور سرکولر اکانومی میں پائیدار حل تلاش کیے جا سکیں۔

فورم کے دوران دو اہم سائنسی نشستیں منعقد ہوئیں جن میں عالمی سطح کے ماہرین نے شرکت کی۔

پہلی نشست میں ڈاکٹر جینیفر ہولمگرین، سی ای او LanzaTech (امریکہ)، پروفیسر رابرٹ اسپیساک، چیئرمین Envien Group (سلوواکیہ)، اور انجینئر مریم المطروشی، چیئرپرسن، کمیٹی برائے ماحولیاتی تحفظ، انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (یو اے ای) شامل تھیں، جبکہ نشست کی میزبانی ڈاکٹر حنیفہ البلوشی (خلیفہ یونیورسٹی) نے کی۔ دوسری نشست میں جولیان تھیل، سی ای او Desyl (سوئٹزرلینڈ)، شیجی وانگ، جنرل مینجر Benayu Group (چین)، اور شن ایتو، JGC کارپوریشن (جاپان) شریک تھے، اور اس نشست کی میزبانی پروفیسر ماریا فرنانڈز، RICH سینٹر، خلیفہ یونیورسٹی نے کی۔

فورم کے اختتام پر "یوسف ایوارڈ برائے نوجوان سائنسدان" کے تحت تین زمروں میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے، جن میں گرین کیمسٹری، قابل تجدید توانائی، اور سرکولر اکانومی شامل تھے۔ شرکاء نے پائیدار بایو انرجی اور سائنسی تحقیق کے فروغ کے لیے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا اور ماحولیاتی تحفظ و ترقی کے لیے نئی راہیں ہموار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔