متحدہ عرب امارات میں یکم جنوری 2026 سے سنگل یوز پلاسٹک مصنوعات کی درآمد، تیاری اور فروخت پر پابندی کا دوسرا مرحلہ نافذ ہوگا

دبئی، 16 دسمبر، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کی وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات نے اعلان کیا ہے کہ وزارتی فیصلہ نمبر 380 آف 2022 کے تحت سنگل یوز پلاسٹک مصنوعات اور تھیلوں کی درآمد، تیاری اور تجارت پر پابندی کے دوسرے مرحلے کا آغاز یکم جنوری 2026 سے مؤثر ہوگا۔

یہ اقدام یو اے ای کے ماحولیاتی تحفظ کے وسیع تر فریم ورک کا حصہ ہے، جس کا مقصد قدرتی ماحول کو محفوظ بنانا اور فضلے کے اثرات کو کم کرنا ہے۔ یہ فیصلہ ملک کے پائیدار ترقیاتی اہداف اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی اسٹریٹجک ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔

وزارت نے واضح کیا ہے کہ نئی پابندی میں سنگل یوز آئٹمز جیسے مشروبات کے کپ اور ان کے ڈھکن، چمچ، کانٹے، چھریاں، چاپ اسٹکس، پلیٹیں، اسٹراز، چمچ ہلانے والے (stirrers)، اور اسٹائروفوم سے بنے کھانے کے ڈبے اور کنٹینرز شامل ہوں گے۔

اسی فیصلے کے تحت سنگل یوز تھیلوں پر بھی مکمل پابندی عائد کی جائے گی، قطع نظر اس کے کہ وہ کن اجزاء سے بنے ہوں، بشمول کاغذی تھیلے، اگر ان کی موٹائی 50 مائیکرون سے کم ہو۔ یہ پابندی بھی یکم جنوری 2026 سے لاگو ہوگی۔

اسسٹنٹ انڈر سیکریٹری برائے پائیدار کمیونٹیز سیکٹر انجینئر علیا عبدالرحیم الحرمودی کے مطابق یہ فیصلہ یو اے ای کے پائیدار مستقبل کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ، "سنگل یوز مصنوعات کے استعمال کو محدود کرنا صرف فضلہ کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ یہ سرکلر اکانومی کے اصولوں پر مبنی ایک جامع وژن کا حصہ ہے، جس میں وسائل کو ماحول پر بوجھ بننے کے بجائے پائیدار اثاثہ بنایا جاتا ہے۔"

انہوں نے مزید بتایاکہ، "ہمیں اماراتی معاشرے کی ماحولیاتی آگاہی اور نجی شعبے، صنعتکاروں اور تاجروں کے تعاون پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ ماحول دوست متبادل اپنائیں گے۔ ماحول کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور ایسی مصنوعات کے استعمال میں کمی ہر فرد کی معاشرتی بھلائی اور قدرتی مناظر کے تحفظ میں سرمایہ کاری ہے۔"

وزارت نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ فیصلے میں بعض مستثنیات رکھی گئی ہیں تاکہ تجارتی روانی اور مقامی صنعتی شعبے کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔ ان میں وہ مصنوعات شامل ہیں جو برآمد کے لیے تیار کی جائیں، بشرطیکہ ان پر واضح طور پر ایکسپورٹ یا ری-ایکسپورٹ کے لیے مخصوص ہونے کی لیبلنگ ہو اور انہیں یو اے ای کی مقامی مارکیٹ میں تقسیم نہ کیا جائے۔

اسی طرح، ری سائیکل شدہ مواد سے تیار کردہ تھیلے اور مصنوعات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، تاکہ مقامی ری سائیکلنگ انڈسٹری کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ ادویات کے تھیلے، کچرے کے تھیلے، اور تازہ گوشت، سبزیاں، روٹی وغیرہ لپیٹنے کے لیے استعمال ہونے والے نہایت باریک پلاسٹک تھیلے، نیز کپڑوں، الیکٹرانکس، اور کھلونوں کے بڑے شاپنگ بیگز پر بھی یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی۔

وزارت نے تمام اداروں، مارکیٹوں اور سپلائرز سے اپیل کی ہے کہ وہ فیصلے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور ملک کے ماحولیاتی اہداف کے حصول میں فعال کردار ادا کریں۔

یہ فیصلہ مرحلہ وار حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا پہلا مرحلہ یکم جنوری 2024 کو نافذ کیا گیا تھا۔ اس کے تحت تمام اقسام کے سنگل یوز پلاسٹک شاپنگ بیگز، حتیٰ کہ بایوڈیگریڈیبل تھیلے بھی ممنوع قرار دیے گئے تھے۔ یہ اقدام پائیدار اور دوبارہ قابل استعمال متبادل کو فروغ دینے کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتا ہے۔