راس الخیمہ اکنامک زون اور روس-امارات بزنس کونسل کے درمیان تعاون کا معاہدہ

راس الخیمہ، 19 دسمبر 2025 (وام)--راس الخیمہ اکنامک زون نے روس-متحدہ عرب امارات بزنس کونسل کے ساتھ اسٹریٹجک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو مضبوط بنانا، دوطرفہ تجارت کو وسعت دینا اور طویل المدتی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔

یہ معاہدہ روس-امارات بزنس فورم کے موقع پر طے پایا، جس میں متحدہ عرب امارات کے وزیر معیشت عبداللہ بن طوق المری اور روس کے وزیر صنعت و تجارت، انتون الیخانووف بھی شریک تھے۔

معاہدے پر دستخط راس الخیمہ اکنامک زون گروپ کے سی ای او رامی جلاد اور روس-متحدہ عرب امارات بزنس کونسل کے چیئرمین الیگزینڈر وینوکوروو نے کیے۔ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت ایک مربوط فریم ورک قائم کیا گیا ہے جو کونسل کے اراکین اور راس الخیمہ اکنامک زون کے مؤکلوں کو نئے تجارتی مواقع تلاش کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

یہ شراکت داری خاص طور پر غیر تیل مصنوعات و خدمات کی تجارت کو بڑھانے اور متنوع بنانے پر مرکوز ہے، اور راس الخیمہ اکنامک زون کو روسی اور اماراتی کمپنیوں کے لیے ایک مسابقتی پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرتی ہے، جو دوطرفہ تجارت کے ساتھ ساتھ تیسرے ممالک کی منڈیوں تک رسائی کے خواہاں ہیں۔

رامی جلاد نے اس موقع پر کہاکہ، "یہ معاہدہ امارات اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کا مظہر ہے، اور اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم موقعوں کو حقیقی کاروباری نتائج میں تبدیل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ راس الخیمہ اکنامک زون ایک مربوط تجارتی ماحول فراہم کرتا ہے جو مؤثر مارکیٹ رسائی، وسعت پذیر آپریشنز اور علاقائی و عالمی تجارتی راستوں تک رسائی کو یقینی بناتا ہے۔"

فورم کے دوران، رامی جلاد نے ایک پینل مباحثے میں بھی شرکت کی، جس کا موضوع تجارت اور لاجسٹکس کا مستقبل تھا۔ انہوں نے اس موقع پر روشنی ڈالی کہ روسی کمپنیاں راس الخیمہ میں قیام کے ذریعے کس طرح فوائد حاصل کر سکتی ہیں، اور بتایا کہ راس الخیمہ اکنامک زون نے سرمایہ کاروں کے لیے آسان انٹری، توسیع، اور سپورٹ سسٹمز کیسے وضع کیے ہیں۔

راس الخیمہ اکنامک زون اس وقت تقریباً 1,000 روسی کمپنیوں کا میزبان ہے، جو مینجمنٹ و کنسلٹنسی، ریئل اسٹیٹ، تجارت، ہولڈنگ اسٹرکچرز، اور ڈیجیٹل و آئی ٹی خدمات جیسے شعبوں میں سرگرم ہیں۔

متوقع ہے کہ 2025 کے اختتام تک امارات اور روس کے درمیان تجارت کا حجم 10 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔ ایسے میں یہ معاہدہ مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس، زراعت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، صحت اور سرمایہ کاری سمیت کئی دیگر شعبوں میں تعاون کے نئے دروازے کھولے گا۔