مسقط، 6 جنوری 2026 (وام)--خلیجی شماریاتی مرکز کی جانب سے جاری کردہ ’’خلیجی مشترکہ مارکیٹ: حقائق و اعداد و شمار‘‘ کے عنوان سے رپورٹ کے مطابق سال 2024 کے اختتام تک جی سی سی (خلیج تعاون کونسل) کے رکن ممالک میں اقتصادی، سرمایہ کاری اور خدمات کے شعبوں میں نمایاں ترقی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان پبلک جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں کی تعداد، جن کے حصص خلیجی شہریوں کو خریدنے کی اجازت ہے، 748 تک پہنچ گئی ہے، جو 2023 کے مقابلے میں 30.3 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ ان کمپنیوں کے مجموعی سرمایہ کی مالیت 549 ارب امریکی ڈالر ہے، جبکہ شیئر ہولڈرز کی تعداد 2 لاکھ 46 ہزار 600 تک پہنچ چکی ہے۔
خلیجی شماریاتی مرکز نے واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار غیر امتیازی پالیسی کے اطلاق کی عکاسی کرتے ہیں، جس کے تحت تمام خلیجی شہریوں کو کسی بھی رکن ریاست میں حصص کی خرید و فروخت، کمپنیوں کے قیام اور سرمایہ کاری کی مکمل آزادی حاصل ہے۔
اسی پالیسی کے نتیجے میں خلیجی ممالک کے درمیان باہمی تجارت 2024 میں 146 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ 30 خلیجی بینکوں کو رکن ریاستوں میں کام کرنے کا لائسنس جاری کیا گیا۔
2024 کے دوران خلیجی شہریوں کو دیگر رکن ریاستوں میں معاشی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے 96,300 لائسنس جاری کیے گئے، جو علاقائی سطح پر اقتصادی ہم آہنگی کی واضح علامت ہیں۔
خلیجی مشترکہ مارکیٹ کے فیصلوں کی بدولت خلیجی شہریوں کو دیگر رکن ممالک میں جائیداد کی ملکیت حاصل کرنے کی اجازت دی گئی، جس کے تحت 17,900 املاک کی ملکیت 2024 میں خلیجی شہریوں نے حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کے آزادانہ بہاؤ، مالیاتی سرمایہ کاری اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں تعاون کو بھی فروغ حاصل ہوا ہے۔
واضح رہے کہ خلیجی مشترکہ مارکیٹ کا آغاز 2007 میں کیا گیا تھا، جو کہ آزاد تجارتی علاقے اور کسٹمز یونین کے قیام کے بعد جی سی سی کے اقتصادی انضمام کی ایک اہم بنیاد بنی۔ یہ نظام کرنسی اتحاد اور مزید معاشی یکجہتی کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے۔