بیجنگ، 7 جنوری، 2026 (وام) -- عوامی جمہوریہ چین نے ایک نئے عملی منصوبے کے تحت اپنے بنیادی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے کو دو سال کے اندر 1 ٹریلین یوآن (تقریباً 142.5 ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ چین کا دارالحکومت عالمی اے آئی جدت کے مرکز کے طور پر اپنے کردار کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت حکام اے آئی صنعت کے مختلف شعبوں کو ہدف بناتے ہوئے نو بڑے اقدامات متعارف کرائیں گے، جن میں تکنیکی جدت پر خصوصی زور دیا جائے گا۔
منصوبے میں مربوط تحقیقی کوششوں کے ذریعے تکنیکی پیش رفت کو ترجیح دی گئی ہے، معیاری ڈیٹا کی فراہمی میں اضافہ اور مختلف شعبوں میں اطلاق کو وسعت دینا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، اعلیٰ صلاحیتوں کو راغب کرنے، طویل مدتی سرمایہ کو متحرک کرنے اور اوپن سورس ایکو سسٹمز کی حمایت کے لیے اقدامات بھی شامل ہیں۔
ڈائریکٹر بیجنگ میونسپل کمیشن آف ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارم یانگ شیولنگ نے کہا کہ دیگر اہداف میں 100,000 سے زائد چپس کی گنجائش کے ساتھ مقامی طور پر تیار کردہ اے آئی کمپیوٹنگ کلسٹر کی تعمیر، 10 سے زائد نئی فہرست شدہ اے آئی سے متعلق کمپنیوں کا اضافہ اور اس شعبے میں 20 سے زائد یونیکورن کمپنیوں کی پرورش شامل ہے۔
ملک کے اے آئی شعبے میں مضبوط ترقی دیکھی گئی ہے، اور چین اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز ٹیکنالوجی کے مطابق ستمبر 2025 تک اس طرح کی کمپنیوں کی تعداد 5,300 سے تجاوز کر گئی ہے، جو عالمی مجموعی تعداد کا 15 فیصد بنتی ہے۔