اماراتی میڈیا قومی اقدار اور حقائق کا ترجمان ہے: چیئرمین نیشنل میڈیا اتھارٹی

دبئی، 10 جنوری، 2026 (وام)--نیشنل میڈیا اتھارٹی کے چیئرمین عبداللہ بن محمد بن بُطی الحامد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی قیادت نے قومی شناخت اور شہریت کی ایسی مضبوط بنیادیں قائم کی ہیں جو ہر حال اور ہر پلیٹ فارم پر اماراتیوں کی رہنمائی کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بات دبئی میں منعقدہ 1 بلین فالوورز سمٹ 2026 کے دوسرے دن ایک کلیدی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

عبداللہ الحامد نے دبئی میں منعقدہ 1 بلین فالوورز سمٹ 2026 کے دوسرے دن ایک کلیدی سیشن سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کا وژن شہریوں کے لیے ڈیجیٹل دنیا میں رہنمائی کا چراغ ہے، جہاں ہر اماراتی ملک کی اقدار اور اصولوں کا غیر معمولی سفیر بن کر سامنے آتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ متحدہ عرب امارات کی ساکھ کا تحفظ اور اس کی شبیہہ کو امن، مستقبل سازی اور قوم کی تعمیر کی سرزمین کے طور پر فروغ دینا ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اماراتیوں کا اخلاقی معیار ائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم ن نے متعین کیا ہے، جو بانیٔ متحدہ عرب امارات مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کی اس میراث سے جڑا ہوا ہے جو انکساری، سخاوت اور انسان دوستی پر مبنی ہے۔

عبداللہ الحامد نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا میڈیا بیانیہ قیادت کے اس فلسفے سے متاثر ہے جو فخر، کامیابی اور توازن پر قائم ہے اور جذباتی ردعمل کے بجائے عقل، حکمت اور عمل کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یو اے ای کا میڈیا سیاسی رجحانات کے پیچھے نہیں چلتا بلکہ اسٹریٹجک خاموشی اختیار کرتا ہے، جو غیر موجودگی نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا مؤقف ہے، کیونکہ شور وقتی ہوتا ہے جبکہ عمل تاریخ میں زندہ رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مہذب اور تعمیری مکالمے کے میدان کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں سے دنیا ملک کی حقیقی اقدار اور روایات کو جان سکتی ہے۔ ان کے مطابق اماراتی مواد تخلیق کرنے والوں کا ہر لفظ قومی اقدار کی ترجمانی کرتا ہے اور معاشرے کے وقار اور پختگی کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ بے مقصد تنازعات اماراتی ثقافت سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔

عبداللہ الحامد نے کہا کہ قیادت کے طرزِ عمل سے یہ سبق ملتا ہے کہ اشتعال انگیزی اور شور کو نظر انداز کرنا ہی دانشمندی ہے، کیونکہ متحدہ عرب امارات کا سب سے مضبوط جواب وہ حقیقت ہے جو وہ زمین پر تعمیر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کچھ لوگ صرف الفاظ پر اکتفا کرتے ہیں، وہاں یو اے ای عملی اثرات کو ترجیح دیتا ہے، اور مضبوط قومی طاقت، خلائی مشن اور جدید انفراسٹرکچر وہ زبان ہے جسے دنیا بخوبی سمجھتی ہے۔

انہوں نے میڈیا کو قومی اقدار، اجتماعی شعور اور ملک کی شبیہہ کے تحفظ کے لیے پہلی دفاعی لائن قرار دیا اور کہا کہ متحدہ عرب امارات کا قومی بیانیہ افسانوں کے بجائے حقیقی کامیابیوں کے سفر کو دستاویزی شکل دیتا ہے اور اس حقیقت کا دفاع کرتا ہے جسے بعض عناصر ملک کی کامیابی اور امتیاز کے باعث مسخ کرنا چاہتے ہیں۔

عبداللہ الحامد نے کہا کہ منظم منفی مہمات کا مقابلہ ان کی نقل سے نہیں بلکہ ایک زیادہ سچا، مضبوط اور حقیقت پر مبنی بیانیہ پیش کرنے سے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی طاقت اس حقیقت میں ہے کہ اس کی کہانی حقیقی ہے، اس کے مرکزی کردار اس کے عوام ہیں اور اس کی کامیابیاں شہریوں اور زائرین دونوں کے لیے واضح ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اعتبار منظم غلط معلومات کے خلاف متحدہ عرب امارات کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے، جبکہ زمینی حقیقت سب سے مضبوط میڈیا جواب ثابت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق مضبوط سماجی شعور معاشرے کو ایسی ڈھال میں بدل دیتا ہے جو بدنیتی پر مبنی ایجنڈوں کو پہچان کر قومی اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بنتی ہے۔

عبداللہ الحامد نے کہا کہ آج کے مواد تخلیق کرنے والے متحدہ عرب امارات کے ڈیجیٹل سفیر اور اس کی ساکھ کے محافظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ یو اے ای کی کہانی کون بیان کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس جذبے اور زبان میں بیان کی جاتی ہے، کیونکہ ملک چاہتا ہے کہ اس کی کہانی امید، کامیابی اور رواداری کے پیغام کے ساتھ دنیا تک پہنچے۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات کے وژن کے بنیادی ستونوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ وژن اتحاد، استحکام، عوام کو ترقی کے مرکز میں رکھنے، جامع اور پائیدار ترقی، امن اور بقائے باہمی پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو اے ای کا وژن متوازن خارجہ پالیسی اور ایک کھلی قومی شناخت سے تقویت پاتا ہے جو اپنے اصولوں میں مضبوطی سے جڑی ہوئی ہے۔

آخر میں عبداللہ الحامد نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا قومی بیانیہ عوام، معیارِ زندگی اور مستقبل کی قیادت کے گرد مرکوز ہے اور یہ عالمی کشادگی، امن، بقائے باہمی اور ہم آہنگی کے لیے ملک کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

واضح رہے کہ 1 بلین فالوورز سمٹ 2026 کا اہتمام متحدہ عرب امارات کے گورنمنٹ میڈیا آفس نے کیا، جو 9 سے 11 جنوری تک امارات ٹاورز، دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر اور میوزیم آف دی فیوچر میں “مواد برائے بھلائی” کے عنوان کے تحت منعقد ہوئی۔