سیول، 12 جنوری، 2026 (وام)--سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جمہوریہ کوریا کی برآمدات میں جنوری کے ابتدائی دس دنوں کے دوران سالانہ بنیاد پر 2.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم سیمی کنڈکٹرز کی بیرون ملک ترسیل میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
کوریا کسٹمز سروس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یکم سے 10 جنوری کے دوران برآمدات کا حجم 15.55 ارب امریکی ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 15.92 ارب امریکی ڈالر تھا۔
تاہم یومیہ اوسط برآمدات میں سالانہ بنیاد پر 4.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2.22 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جس کی وجہ کام کے دنوں کی کم تعداد بتائی گئی۔ اس عرصے میں کام کے دن سات رہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 7.5 دن تھے۔
یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق درآمدات میں بھی سالانہ بنیاد پر 4.5 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 18.21 ارب امریکی ڈالر رہیں، جس کے نتیجے میں مذکورہ مدت کے دوران 2.7 ارب امریکی ڈالر کا تجارتی خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق سیمی کنڈکٹرز کی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر 45.6 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 4.64 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو اس 10 روزہ مدت کے دوران ملک کی مجموعی برآمدات کا 29.9 فیصد بنتی ہیں۔ یہ شرح ایک سال قبل کے مقابلے میں 9.8 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
دوسری جانب گاڑیوں کی برآمدات میں 24.7 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 1.01 ارب امریکی ڈالر رہیں، جبکہ بحری جہازوں کی ترسیل 12.7 فیصد کم ہو کر 923 ملین امریکی ڈالر تک محدود رہی۔ اسی طرح فولاد کی مصنوعات کی برآمدات میں بھی 18.7 فیصد کمی دیکھی گئی اور یہ 976 ملین امریکی ڈالر رہیں۔
دسمبر کے مہینے میں مضبوط عالمی مانگ، خصوصاً سیمی کنڈکٹرز کے باعث، جنوبی کوریا کی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر 13.4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 69.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو مسلسل 11ویں ماہ سالانہ اضافے کی علامت ہے۔
پورے سال 2025 کے دوران جنوبی کوریا کی مجموعی برآمدات 709.7 ارب امریکی ڈالر کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جس کے ساتھ ملک نے پہلی بار 700 ارب امریکی ڈالر کا سنگ میل عبور کیا۔