ابوظہبی، 12 جنوری، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے انکشاف کیا ہے کہ بینکوں کے مجموعی اثاثے اکتوبر 2025 کے اختتام پر 5.208 ٹریلین درہم سے بڑھ کر نومبر 2025 کے آخر تک 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 5.251 ٹریلین درہم تک پہنچ گئے۔
مرکزی بینک کی جانب سے پیر کے روز جاری کی گئی رپورٹ “مالیاتی و بینکاری پیش رفت – نومبر 2025” کے مطابق مجموعی قرضہ اکتوبر 2025 کے آخر میں 2.515 ٹریلین درہم سے بڑھ کر نومبر 2025 کے آخر تک 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 2.532 ٹریلین درہم ہو گیا۔ مجموعی قرضے میں یہ اضافہ ملکی قرضے میں 9.0 ارب درہم اور غیر ملکی قرضے میں 8.7 ارب درہم کے اضافے کا نتیجہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملکی قرضے میں اضافہ حکومت کے شعبے کو دیے گئے قرضے میں 2.6 فیصد، نجی شعبے کو دیے گئے قرضے میں 0.4 فیصد اور غیر بینکاری مالیاتی اداروں کو فراہم کردہ قرضے میں 3.6 فیصد اضافے کی وجہ سے ہوا، جس نے عوامی شعبے یعنی حکومت سے متعلق اداروں کو دیے گئے قرضے میں 1.0 فیصد کمی کے اثرات کو زائل کر دیا۔
بینکوں کی مجموعی جمع شدہ رقوم اکتوبر 2025 کے اختتام پر 3.203 ٹریلین درہم سے بڑھ کر نومبر 2025 کے آخر تک 1.0 فیصد اضافے کے ساتھ 3.236 ٹریلین درہم تک پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ رہائشی جمع شدہ رقوم میں 1.4 فیصد اضافہ رہا، جو 2.971 ٹریلین درہم تک پہنچ گئیں، جبکہ غیر رہائشی جمع شدہ رقوم میں 2.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 265.4 ارب درہم رہ گئیں۔
رہائشی جمع شدہ رقوم کی تفصیل کے مطابق حکومت کے شعبے کی جمع شدہ رقوم میں 0.6 فیصد اضافہ ہو کر 439.2 ارب درہم ہو گئیں، نجی شعبے کی جمع شدہ رقوم 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 2.187 ٹریلین درہم تک پہنچ گئیں، حکومت سے متعلق اداروں کی جمع شدہ رقوم میں 3.0 فیصد اضافہ ہو کر 282.7 ارب درہم ہو گیا، جبکہ غیر بینکاری مالیاتی اداروں کی جمع شدہ رقوم میں 3.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ نومبر 2025 کے آخر تک 62.0 ارب درہم تک پہنچ گئیں۔
مرکزی بینک کے مطابق مالیاتی بنیاد اکتوبر 2025 کے آخر میں 836.1 ارب درہم سے بڑھ کر نومبر 2025 کے آخر تک 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ 850.1 ارب درہم ہو گئی۔ مالیاتی بنیاد میں یہ اضافہ ریزرو اکاؤنٹس میں 21.5 فیصد، جاری کردہ کرنسی میں 2.6 فیصد اور مالیاتی بلز و اسلامی سرٹیفکیٹس آف ڈپازٹ میں 8.8 فیصد اضافے کی بدولت ہوا، جس نے مرکزی بینک میں بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے موجودہ اکاؤنٹس اور اوور نائٹ ڈپازٹس میں 37.3 فیصد کمی کے اثرات کو کم کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق منی سپلائی ایگریگیٹ M1 میں 1.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو اکتوبر 2025 کے آخر میں 1.065 ٹریلین درہم سے گھٹ کر نومبر 2025 کے آخر میں 1.048 ٹریلین درہم رہ گئی۔ اس کمی کی وجہ مالیاتی جمع شدہ رقوم میں 2.3 فیصد کمی بتائی گئی، جس نے بینکوں کے باہر گردش کرنے والی کرنسی میں 2.2 فیصد اضافے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
اس کے برعکس منی سپلائی ایگریگیٹ M2 میں 1.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ اکتوبر 2025 کے آخر میں 2.628 ٹریلین درہم سے بڑھ کر نومبر 2025 کے آخر تک 2.669 ٹریلین درہم ہو گیا۔ M2 میں اضافہ جزوی طور پر کوئزی مانیٹری ڈپازٹس میں 58.2 ارب درہم کے اضافے کا نتیجہ ہے۔
اسی طرح منی سپلائی ایگریگیٹ M3 میں بھی 1.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ اکتوبر 2025 کے آخر میں 3.167 ٹریلین درہم سے بڑھ کر نومبر 2025 کے آخر تک 3.216 ٹریلین درہم تک پہنچ گیا۔ مرکزی بینک کے مطابق M3 میں یہ اضافہ M2 میں اضافے اور حکومت کی جمع شدہ رقوم میں 8.6 ارب درہم کے اضافے کی بدولت ہوا۔