بیجنگ، 13 جنوری، 2026 (وام)--چین نے پہلی مرتبہ ایک ایسا مصنوعی ذہانت ماڈل متعارف کرایا ہے جو موسمیاتی پیٹرنز کے مالیاتی منڈیوں پر اثرات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چائنا میٹرولوجیکل ایڈمنسٹریشن کے مطابق یہ پیش رفت موسمیاتی شعور پر مبنی مالی خطرات کے انتظام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
یہ ماڈل، جسے ’’شنگجی‘‘ یا ’’اسٹاک‘‘ کا نام دیا گیا ہے، شنگھائی میں قائم فودان یونیورسٹی اور نیشنل میٹرولوجیکل انفارمیشن سینٹر کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔ سی ایم اے کے مطابق ماڈل کا بنیادی مقصد یہ جانچنا ہے کہ موسمیاتی عوامل کس طرح اثاثہ جات کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے ذریعے سرمایہ کاری کے فیصلوں اور مالی خطرات کے تجزیے کے لیے ایک نیا اور مؤثر ذریعہ فراہم کیا جائے گا۔
سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیلی کے مطابق ماڈل کی تیاری میں شامل مرکزی ڈویلپر اور سی ایم اے کی فنانشل میٹرولوجی کی کلیدی اوپن لیبارٹری کی ڈائریکٹر ژاؤ یانشیا نے بتایا کہ یہ نظام عالمی سطح پر دوبارہ تجزیہ شدہ موسمیاتی ڈیٹا اور تاریخی اسٹاک ٹریڈنگ ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے چین کی اے شیئر مارکیٹ میں زیادہ تر حصص کی قلیل مدتی کارکردگی کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تصدیقی آزمائشوں سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ ماڈل ان صنعتوں کی درست نشاندہی کر سکتا ہے جو موسمی حالات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں، جن میں ہوا اور شمسی توانائی، روایتی پیٹروکیمیکلز، تعمیرات اور زراعت شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ماڈل کی کارکردگی بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے۔