ابوظہبی، 13 جنوری، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات اور جمہوریہ فلپائن نے اپنے دوطرفہ معاشی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب سرکاری سطح پر منعقد ہوئی، جس کے گواہ متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان اور فلپائن کے صدر عزت مآب فرڈینینڈ آر مارکوس جونیئر تھے۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور فلپائن کے تعلقات مسلسل فروغ پا رہے ہیں اور یہ مشترکہ وژن دونوں ممالک کے باہمی مفادات کے لیے تعاون کو وسعت دینے پر مبنی ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ دوطرفہ تعاون کو نئی جہت دے گا جبکہ مشترکہ ترقیاتی اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔ صدرِ امارات نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ معاہدہ عالمی شراکت داریوں کے فروغ کے لیے متحدہ عرب امارات کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو پائیدار معاشی ترقی اور آئندہ نسلوں کے لیے طویل مدتی مواقع پیدا کرے گا۔
جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے پر متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے غیر ملکی تجارت عزت مآب ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی اور فلپائن کی سیکرٹری برائے تجارت و صنعت عزت مآب کرسٹینا آلڈیگر-روک نے ابوظہبی سسٹین ایبلٹی ویک کے موقع پر دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت محصولات اور غیر ضروری تجارتی رکاوٹوں میں کمی، دوطرفہ سرمایہ کاری میں اضافہ اور برقی آلات، مالیاتی خدمات، زراعت اور قیمتی دھاتوں سمیت اہم شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ معاہدہ نجی شعبے کے تعاون کو فروغ دے گا، سپلائی چینز کو مضبوط بنائے گا، علم کی منتقلی میں اضافہ کرے گا اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی سطح پر وسعت دینے میں مدد فراہم کرے گا۔
متحدہ عرب امارات اور فلپائن کے درمیان سیپا پروگرام متحدہ عرب امارات کے عالمی تجارتی پروگرام میں ایک اہم اضافہ ہے اور دوطرفہ معاشی تعاون کی تاریخ میں ایک نیا باب کھولتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل تجارت 2024 میں 940 ملین امریکی ڈالر رہی، جبکہ 2025 کے پہلے نو ماہ میں یہ 853.7 ملین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو سال بہ سال 22.4 فیصد اضافے کی عکاس ہے۔ متحدہ عرب امارات، فلپائن کی عرب اور افریقی خطوں میں سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور عالمی سطح پر اس کا 17 واں بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ معاہدہ 2032 تک متحدہ عرب امارات کی مجموعی قومی پیداوار میں 2.4 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ کرے گا۔
واضح رہے کہ سیپا پروگرام متحدہ عرب امارات کی غیر ملکی تجارتی حکمت عملی کا ایک اہم ستون ہے، جس کا مقصد 2031 تک غیر تیل غیر ملکی تجارت کو 1.1 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچانا ہے۔ سال 2024 میں اس پروگرام کے تحت متحدہ عرب امارات کی غیر تیل تجارت 810 ارب امریکی ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچی، جو سالانہ بنیادوں پر 14 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اب تک اس پروگرام کے تحت 32 معاہدے طے پا چکے ہیں، جن میں سے 14 نافذ العمل ہیں۔ سی ای پی اے پروگرام کھلے اور اصولوں پر مبنی تجارتی نظام کے لیے متحدہ عرب امارات کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد معاشی تنوع کو فروغ دینا اور دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی منڈیوں میں اماراتی کاروباروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔