متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کی حضرموت کے گورنر کے الزامات کی سخت تردید

ابوظہبی، 20 جنوری، 2026 (وام) --متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے یمن کے صوبہ حضرموت کے گورنر سالم الخنبشی کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں لگائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹا، گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔

وزارت دفاع نے کہا کہ مذکورہ پریس کانفرنس میں متحدہ عرب امارات پر یمنی شہر المکلا کے ریان ایئرپورٹ پر ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کی مبینہ موجودگی سے متعلق جو دعوے کیے گئے، وہ کسی بھی ثبوت یا حقیقی بنیاد سے محروم ہیں اور حقائق کو جان بوجھ کر مسخ کرنے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔

وزارت کے مطابق یہ الزامات نہ صرف عوامی رائے کو گمراہ کرنے کے مترادف ہیں بلکہ متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور ان کے پیشہ ورانہ عسکری کردار اور تسلیم شدہ ریکارڈ کو مشکوک بنانے کی ایک ناقابل قبول کوشش بھی ہیں۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ متحدہ عرب امارات کی افواج نے 2 جنوری 2026 کو یمن سے اپنا مکمل اور حتمی انخلا سرکاری اور عوامی طور پر مکمل کر لیا تھا۔ اس عمل کے دوران تمام عسکری سازوسامان، ہتھیار اور اثاثے تسلیم شدہ اور قائم شدہ عسکری طریقہ کار کے مطابق منتقل کیے گئے، جس کے بعد یمن میں کسی بھی قسم کی اماراتی عسکری، لاجسٹک یا تکنیکی موجودگی کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔

ریان ایئرپورٹ پر مبینہ طور پر “خفیہ جیلوں” کی موجودگی سے متعلق الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے وزارت دفاع نے کہا کہ یہ دعوے دانستہ طور پر گھڑی گئی من گھڑت کہانیاں اور غلط معلومات ہیں، جن کا مقصد ایک غیر حقیقی اور غیر پیشہ ورانہ بیانیہ تشکیل دینا ہے۔

وزارت نے وضاحت کی کہ جن سہولیات کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ درحقیقت عسکری رہائش گاہیں، آپریشن رومز اور مضبوط پناہ گاہیں ہیں، جن میں سے بعض زیر زمین واقع ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی تنصیبات دنیا بھر کے ہوائی اڈوں اور عسکری مراکز میں ایک عام اور معروف امر ہیں اور ان کا مفہوم معمول کے عسکری استعمال سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے زور دے کر کہا کہ اس نوعیت کے الزامات میں امارات کو ملوث کرنے کی کوشش ان عناصر اور مقاصد پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے جو ان جھوٹے دعوؤں کے پیچھے کارفرما ہیں۔ وزارت نے اسے سچائی کی قیمت پر سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی ایک کھلی کوشش اور متحدہ عرب امارات کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کے لیے منظم مہم قرار دیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس طرح کے الزامات یمن کی حمایت، اس کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک دہائی سے زائد عرصے تک دی جانے والی متحدہ عرب امارات کی قربانیوں اور اس کے فوجیوں کے کردار کو مسخ کرنے کی کوشش ہیں، جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔