شارجہ، 20 جنوری، 2026 (وام) --شارجہ کے رئیل اسٹیٹ شعبے نے سال 2025 کے دوران اپنی تاریخ کی بلند ترین کارکردگی ریکارڈ کرتے ہوئے مجموعی تجارتی مالیت 65.6 ارب درہم تک پہنچا دی، جو 2024 میں درج 40 ارب درہم کے مقابلے میں 64.3 فیصد نمایاں اضافہ ہے۔ اس غیر معمولی ترقی کو سرمایہ کاروں کی مضبوط مانگ اور مارکیٹ کی مسلسل توسیع کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رئیل اسٹیٹ لین دین کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 32 ہزار 659 تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 26.3 فیصد اضافہ ہے۔ فروخت کے لین دین 33 ہزار 580 ریکارڈ کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 38.4 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ رہائشی یونٹس کی بڑھتی ہوئی مانگ، پرکشش کرایہ دارانہ منافع، قیمتوں کے استحکام اور متنوع رئیل اسٹیٹ منصوبوں کی دستیابی کا عکاس ہے، جنہیں لچکدار مالیاتی سہولیات کی معاونت حاصل ہے۔
یہ نمایاں کامیابیاں سپریم کونسل کے رکن اور شارجہ کے حکمران عزت مآب شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی اور شارجہ کے ولی عہد و نائب حکمران اور چیئرمین ایگزیکٹو کونسل عزت مآب شیخ سلطان بن محمد بن سلطان القاسمی کے طویل المدتی وژن اور مسلسل نگرانی کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کا وژن قانون سازی میں استحکام اور متوازن ترقی پر مبنی ہے، جس نے شارجہ میں ایک مضبوط، قابل اعتماد اور پائیدار رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی بنیاد رکھی ہے۔
محکمہ رجسٹریشن رئیل اسٹیٹ شارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عبدالعزیز احمد الشامسی نے کہا کہ 2025 میں رئیل اسٹیٹ شعبے کی غیر معمولی ترقی واضح قیادت کے وژن اور طویل المدتی اسٹریٹجک منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے ایک ایسا مربوط رئیل اسٹیٹ نظام تشکیل دیا گیا ہے جو قانون سازی میں استحکام اور متوازن ترقی کو یقینی بناتا ہے اور سرمایہ کاروں کو ایک محفوظ اور پائیدار ماحول فراہم کرتا ہے۔
رہن کی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں 6 ہزار 300 لین دین کے ذریعے رہن کی مجموعی مالیت 15.5 ارب درہم تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 45.1 فیصد زیادہ ہے۔ اس پیش رفت کو بینکوں اور مالیاتی اداروں کے شارجہ کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کی شرکت میں بھی اضافہ ہوا، جہاں 129 مختلف قومیتوں کے سرمایہ کار مارکیٹ میں سرگرم رہے، جبکہ ایک سال قبل یہ تعداد 120 تھی۔ مختلف قومیتوں کے سرمایہ کاروں کے ذریعے تجارت کی جانے والی جائیدادوں کی تعداد 60 ہزار 322 تک پہنچ گئی، جو 2024 میں 45 ہزار 676 تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات کے شہریوں نے 41 ہزار 66 جائیدادوں کے ذریعے تقریباً 33.8 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی۔ خلیجی ممالک کے شہریوں نے 2 ہزار 55 جائیدادوں میں 3.4 ارب درہم، عرب ممالک کے شہریوں نے 8 ہزار 663 جائیدادوں میں 9.8 ارب درہم، جبکہ دیگر قومیتوں نے 8 ہزار 538 جائیدادوں میں 18.5 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی۔
رئیل اسٹیٹ لین دین کی اقسام میں بھی واضح اضافہ دیکھا گیا، جہاں ملکیت سرٹیفکیٹ کے لین دین 47 ہزار 453 تک پہنچ گئے، جو 17.6 فیصد اضافہ ہے، جبکہ ٹائٹل ڈیڈ کے لین دین 46 ہزار 131 ریکارڈ کیے گئے، جو 29.7 فیصد زیادہ ہیں۔ ابتدائی فروخت کے معاہدے 14 ہزار 472 تک پہنچ گئے، جو 41.2 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں، جبکہ ویلیوایشن کے لین دین 3 ہزار 696 ریکارڈ کیے گئے، جن میں 35.8 فیصد اضافہ ہوا۔
محکمہ رجسٹریشن رئیل اسٹیٹ شارجہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ جدید ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن فریم ورک اور اسمارٹ سروسز نے طریقہ کار کو آسان بنانے، لین دین کی رفتار اور درستگی میں بہتری لانے اور شفافیت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے شارجہ کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو مزید استحکام حاصل ہوا ہے۔